Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:43:13 GMT

نایاب سورج گرہن ’رِنگ آف فائر‘ کیسے بنتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

نایاب سورج گرہن ’رِنگ آف فائر‘ کیسے بنتا ہے؟

17 فروری کو ایک نایاب سورج گرہن رونما ہوگا جسے عام طور پر ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے، یہ فلکیاتی مظہر محدود علاقوں میں دیکھا جا سکے گا جبکہ مکمل ’رِنگ آف فائر‘ کا منظر صرف انٹارکٹیکا میں نظر آئے گا۔

یہ سورج گرہن اس وقت بنتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے لیکن اپنے نسبتاً فاصلے کی وجہ سے سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپ پاتا، سورج کا بیرونی حصہ ایک روشن دائرے کی شکل میں نمایاں رہتا ہے جو آگ کے حلقے جیسا منظر پیش کرتا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کا تقریباً 96 فیصد حصہ ڈھانپ لے گا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق ’رِنگ آف فائر‘ کا منظر تقریباً 2 منٹ 20 سیکنڈ تک برقرار رہے گا، جبکہ گرہن کا مجموعی دورانیہ تقریباً 271 منٹ ہوگا۔

اگرچہ مکمل گرہن صرف انٹارکٹیکا میں دیکھا جا سکے گا، تاہم جزوی سورج گرہن افریقا، جنوبی امریکا، بحرالکاہل، بحرِ ہند اور بحرِ اوقیانوس کے بعض حصوں میں بھی دیکھا جا سکے گا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھ سے دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، گرہن دیکھنے کے لیے خصوصی ایکلپس چشمے یا مناسب سولر فلٹر سے لیس دوربین استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، عام دھوپ کے چشمے اس مقصد کے لیے مؤثر نہیں ہوتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ر نگ آف فائر

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے