پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کی مکمل چھان بین کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اسلام آباد میں افغان باشندوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی مکمل چھان بین کا حکم دیدیا گیا۔
اسلام آباد کے تمام تھانہ جات کے ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستانی کارڈ کے حامل افغان شہریوں سے پوچھ گچھ اور ان کے ریکارڈ کی تصدیق کی جائے ۔
ایس ایچ اوز کے لئے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افغان باشندوں کے ریکارڈ کی بیک ٹریکنگ یقینی بنائی جائے ۔ متعلقہ حدود میں مقیم ویزا ہولڈر افغان شہریوں کی میپنگ کا عمل بھی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ تمام ایس ایچ اوز اپنے علاقوں میں قانونی ویزا پر موجود افغان شہریوں کی میپنگ کے ذمہ دار ہوں گے ۔
وزارت داخلہ نے افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈز کو بلاک کرنے اور تصدیق کا عمل بھی تیز کر دیا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغان شہریوں
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔