پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کی مکمل چھان بین کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اسلام آباد میں افغان باشندوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی مکمل چھان بین کا حکم دیدیا گیا۔
اسلام آباد کے تمام تھانہ جات کے ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستانی کارڈ کے حامل افغان شہریوں سے پوچھ گچھ اور ان کے ریکارڈ کی تصدیق کی جائے ۔
ایس ایچ اوز کے لئے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افغان باشندوں کے ریکارڈ کی بیک ٹریکنگ یقینی بنائی جائے ۔ متعلقہ حدود میں مقیم ویزا ہولڈر افغان شہریوں کی میپنگ کا عمل بھی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ تمام ایس ایچ اوز اپنے علاقوں میں قانونی ویزا پر موجود افغان شہریوں کی میپنگ کے ذمہ دار ہوں گے ۔
وزارت داخلہ نے افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈز کو بلاک کرنے اور تصدیق کا عمل بھی تیز کر دیا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغان شہریوں
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔