وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس اصلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن، باڈی کیم اور آن لائن ایف آئی آر کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس اصلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن، باڈی کیم اور آن لائن ایف آئی آر کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 15 February, 2026 سب نیوز
لاہور:(آئی پی ایس)
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں پولیس اصلاحات کیلئے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے جامع اصلاحاتی اقدامات کا اعلان کر دیا۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں پولیس ریفارمز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئی جی سمیت اعلیٰ حکام کو فوری عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تھانوں کے باہر شکایات کے ازالے کے لیے پنک بٹن نصب کیے جائیں گے جبکہ انوسٹی گیشن کے عمل کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی۔ پنجاب میں ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے اور شناختی کارڈ و کاغذات کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر پولیس سٹیشن کے کم از کم 10 اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کیے جائیں گے، جس کیلئے فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے۔ صوبے بھر میں 14 ہزار باڈی کیم اور 700 پنک بٹن نصب کیے جائیں گے۔
انہوں نے حکم دیا کہ پولیس ہر شہری کو ’’سر‘‘ کہہ کر مخاطب کرے اور چھوٹی شکایات کا ازالہ دو سے تین گھنٹوں میں یقینی بنایا جائے۔ ناکوں پر بدتمیزی اور ’’اوئے‘‘ کلچر کے خاتمے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی جرائم میں 48 فیصد جبکہ بڑے جرائم میں 80 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 80 منٹ کے رسپانس ٹائم سے منفی فیڈبیک میں نمایاں کمی آئی۔ ساہیوال اور گجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کالز نہ ہونے کے برابر ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے، عوام کو نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور خواتین کی شکایات کے ازالے کیلئے موبائل پولیس اسٹیشن ان کی دہلیز پر جائیں گے
انہوں نے پولیس میں ضابطہ اخلاق، تربیت اور گرومنگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر اوپر کی سطح پر کرپشن ہوگی تو اس کے اثرات تھانے تک پہنچیں گے۔ ’’عوام سے بڑا کوئی وی آئی پی نہیں‘‘، وزیراعلیٰ نے دوٹوک انداز میں کہا۔
ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے لین مارکنگ، شہریوں میں آگاہی مہم، ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کے آغاز کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم اصلاحاتی پلان تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ’’ابھی نہیں تو پھر کبھی پولیس ریفارمز نہیں کرسکتے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے آئی جی اور دیگر افسران کو عوامی فیڈبیک خود لینے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ قانون کا بلاامتیاز نفاذ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کا نظام پر اعتماد بحال ہو سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر آسٹریا روانہ وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر آسٹریا روانہ پاکستان نے 70 کروڑ ڈالرزکا چینی قرض واپس کر دیا پاکستان اور چین کے مابین میڈیا تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد بتایا گیا ہے حکومت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل لیجانے کیلئے رضامند ہے: سلمان اکرم راجا چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا فورٹ عباس کا دورہ نگہبان رمضان پیکیج: 40 لاکھ مستحق خاندان مستیفد ہوں گے: مریم نوازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایف آئی آر باڈی کیم آن لائن
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔