پاک بھارت میچ کے دوران بارش کے امکانات کم ہونے لگے، بھرپور ٹاکرے کے امکانات روشن
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کے میچ کے دوران بارش کے امکانات کم ہونے لگے جس کے بعد توقع ہے کہ شائقین کرکٹ پاک بھارت ٹاکرے سے بھرپور لطف اندوز ہو سکیں گے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان آج کولمبو کے پریما داسا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ آج کولمبو میں مختلف اوقات میں بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم اب بتایا جارہا ہے کہ کولمبو میں آج بارش کے امکانات بتدریج کم ہو رہے ہیں۔سری لنکا کے محکمہ موسمیات کے مطابق بادل چھائیں رہیں گے، میچ کے اوقات میں طوفانی بارش کا امکان نہیں ہے۔دوسری جانب شائقینِ کرکٹ پُرامید ہیں کہ اتوار کے روز ایک اچھا میچ دیکھنے کو ملے گا۔اس حوالے سے گزشتہ روز قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے بھی پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ بارش ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے لیکن اگر میچ کے اوورز کم ہوتے ہیں تو ہم نے اس کا بھی پلان کیا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے امکانات میچ کے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :