نوئیڈا: ویلنٹائن ڈے پر گاڑی سے لڑکا لڑکی کی لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں ویلنٹائن ڈے کے روز ایک نوجوان نے مبینہ طور پر اپنی گرل فرینڈ کو گولی مار کر قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔
بھارتی پولیس نے گاڑی سے دونوں افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد کر لیں، جبکہ موقع سے پستول اور خول بھی قبضے میں لے لیے گئے۔
پولیس کے مطابق مقامی افراد نے فائرنگ کی آوازیں سن کر پولیس کو اطلاع دی، جب پولیس ٹیم موقع پر پہنچی تو ایک بند گاڑی کے اندر ایک مرد اور ایک خاتون بے ہوش حالت میں پائے گئے، گاڑی کو تحویل میں لے کر علاقے کو فرانزک معائنے کے لیے سیل کر دیا گیا۔
مرنے والوں کی شناخت 26 سالہ ریکھا اور 32 سالہ سمت کے طور پر ہوئی ہے، دونوں گزشتہ روز سے لاپتہ تھے اور اہلِ خانہ کی جانب سے گمشدگی کی رپورٹس بھی درج کرائی جا چکی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق دونوں تقریباً 15 برس سے تعلق میں تھے اور دونوں خاندان اس رشتے سے آگاہ تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی اندر سے بند تھی اور پستول سمت کے ہاتھ میں موجود تھا، فرانزک ٹیم نے موقع سے شواہد اکٹھے کر کے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
سمت نے واٹس ایپ پر ایک پیغام بھی چھوڑا، جس میں اس نے اپنی 15 سالہ محبت اور خودکشی کی وجہ بیان کی۔
پیغام میں اس نے الزام عائد کیا کہ ریکھا نے شادی کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وہ کسی اور سے شادی کر رہی تھی، جسے وہ دھوکا قرار دیتے ہوئے خودکشی کا قدم اٹھا رہا ہے۔
تاہم سمت کے اہلِ خانہ نے پولیس کے ابتدائی مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لڑکی کے خاندان کی جانب سے ذات پات کے معاملے پر طعنے دیے جاتے تھے اور انہیں بیرونِ ملک نمبروں سے دھمکی آمیز کالز بھی موصول ہوئی تھیں جس میں پولیس کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق گاڑی سالارپور گاؤں کے قریب محض چند سو میٹر کے فاصلے پر ملی، جو کہ مشکوک ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں کو ذات پات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں، بشمول اہلِ خانہ کے الزامات، کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔