تقریباً 20 منٹ کے خطاب کے دوران روبیو نے ایک مرتبہ بھی روس کا نام نہیں لیا اور صرف ایک بار یوکرین تنازع کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں زیادہ تر امریکہ اور یورپ کے درمیان تعلقات اور مستقبل کے ٹرانس اٹلانٹک تعاون پر توجہ مرکوز رکھی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے ہر ممکن اقدام کی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی شعبے نے روسی خبر ایجنسی نووستی کے حوالے سے بتایا ہے کہ مارکو روبیو، وزیرِ خارجہ امریکہ نے کہا ہے کہ امریکی حکومت یوکرین میں فوجی تنازع کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کو تیار ہے۔ روبیو نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ تمام مشکلات کے باوجود واشنگٹن یوکرین بحران کے پرامن حل کی تلاش جاری رکھے گا۔ ان کے بقول یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یوکرین ایسے شرائط قبول کرے گا جو روس کے لیے قابلِ قبول ہوں یا نہیں، تاہم امریکہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حل منصفانہ اور پائیدار ہو تو کوئی بھی فریق مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کے حل کی مخالفت نہیں کرے گا۔ روبیو نے واضح کیا کہ ہم اس تنازع کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ یوکرین بحران کے حل کے عمل سے کسی صورت باہر نہیں نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ واحد ملک ہے جو دونوں فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے امکان پر بات چیت کے لیے ایک میز پر لانے میں کامیاب رہا ہے، اور یہ ایسی ذمہ داری ہے جس سے واشنگٹن دستبردار نہیں ہوگا۔

روس کا نام لیے بغیر خطاب:
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں تقریباً 20 منٹ کے خطاب کے دوران روبیو نے ایک مرتبہ بھی روس کا نام نہیں لیا اور صرف ایک بار یوکرین تنازع کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں زیادہ تر امریکہ اور یورپ کے درمیان تعلقات اور مستقبل کے ٹرانس اٹلانٹک تعاون پر توجہ مرکوز رکھی، جبکہ یوکرین بحران کا ذکر اقوامِ متحدہ کی ناکارکردگی کے تناظر میں کیا۔ تاہم خطاب کے بعد ہونے والی گفتگو میں، مذاکرات کے تسلسل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے روس کا حوالہ دیا، لیکن اس کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کیا۔

یوکرین بحران میں پیش رفت بارے امریکی امید:
مارکو روبیو نے تصدیق کی کہ یوکرین کے حوالے سے مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تکنیکی سطح کی ملاقاتوں میں دونوں فریقوں کے فوجی نمائندوں نے کچھ پیش رفت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے میں کئی برسوں بعد پہلی بار، کم از کم تکنیکی سطح پر، دونوں فریقوں کے فوجی حکام نے گزشتہ ہفتے ملاقات کی، اور منگل کو بھی نئی ملاقاتیں ہوں گی۔ روبیو کے مطابق اگرچہ یوکرین سے متعلق باقی ماندہ اختلافی نکات کی فہرست مختصر ہو رہی ہے، لیکن ان میں سے بیشتر اب بھی پیچیدہ ہیں اور مزید محنت کے متقاضی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آئندہ ملاقاتوں میں شریک افراد کی ترکیب، سابقہ نشستوں کے مقابلے میں مختلف ہو سکتی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اسٹیو وِٹکاف، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ہیں، اور جیرڈ کوشنر، امریکی صدر کے داماد، یوکرین سے متعلق مذاکرات میں شرکت کریں گے جو جنیوا میں منعقد ہوں گے۔ روبیو نے کہا کہ ہمارے مرکزی مذاکرات کار، اسٹیو وِٹکاف اور جیرڈ کوشنر، اس معاملے پر بہت وقت صرف کر چکے ہیں اور منگل کو ایک بار پھر دونوں فریقوں سے ملاقات کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ ان کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یوکرین بحران انہوں نے روبیو نے نے کہا کے لیے روس کا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران