قابض حکام کی بے حسی کے خلاف سرینگر میں خصوصی افراد کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
مظاہرین نے خصوصی افراد کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے اور تمام محکموں کی طرف سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا طریقہ کار قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں خصوصی افراد نے قابض حکام کی بے حسی اور امتیازی سلوک کے خلاف سرینگر کے پریس انکلیو میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی دیرینہ شکایات کو دور کرنے میں ناکام رہی اور اس نے بار بار کی جانے والی درخواستوں کو نظرانداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار یقین دہانیوں کے باوجود علاقے میں خصوصی افراد کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ پلے کارڈز اٹھائے ہوئے مظاہرین نے بتایا کہ انہیں ناکافی انفراسٹرکچر، روزگار کے مواقع کی کمی اور تاخیر سے ملنے والی امداد کی وجہ سے بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل جموں میں بھی ایسا ہی احتجاج کیا گیا تھا لیکن کوئی بھی حکومتی نمائندہ ان کے ساتھ بات چیت کرنے یا ان کے مطالبات سننے کے لیے آگے نہیں آیا۔ مظاہرین نے خصوصی افراد کے حقوق سے متعلق قانون کے موثر نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن سے متعلق دفعات کو سختی سے نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ قانون کے تحت فلاحی اقدامات میں توسیع کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے خصوصی افراد کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے اور تمام محکموں کی طرف سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا طریقہ کار قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خصوصی افراد کے کا مطالبہ کیا مظاہرین نے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔