حریت کانفرنس کا شہید آزادی پسند رہنما غلام محمدبُلہ کو خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے سوپور سے تعلق رکھنے والے غلام محمد بلہ کو 15 فروری 1975ء کی شب سینٹرل جیل سرینگر میں تشدد کر کے شہید کیا گیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے معروف کشمیری حریت پسند رہنما غلام محمد بلہ کو ان کے 51ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے سوپور سے تعلق رکھنے والے غلام محمد بلہ کو 15 فروری 1975ء کی شب سینٹرل جیل سرینگر میں تشدد کر کے شہید کیا گیا تھا، انہیں بھارتی پولیس نے کسی کو بتائے بغیر رات کے اندھیرے میں سوپور میں سپرد خاک کر دیا تھا۔ غلام محمد بلہ کو بھارتی پولیس نے سوپور میں اندرا عبداللہ معاہدے کے خلاف احتجاجی ریلی کی قیادت کرنے پر گرفتار کیا اور بعد میں سینٹرل جیل سرینگر میں دوران حراست شہید کر دیا تھا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں غلام محمد بلہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ان کے مشن کو ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران 1947ء سے طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ نہ ماضی میں کامیاب ہوئے اور نہ مستقبل میں کامیاب ہون گے۔
دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے رہنما محمود احمد ساغر نے شہید بلہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور شیخ محمد عبداللہ کے درمیان معاہدہ سامنے آنے پر جموں و کشمیر میں غیر معمولی ہنگامہ آرائی ہوئی اور کشمیری عوام میں شیخ عبداللہ اور بھارتی قیادت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ معاہدے کے خلاف مقبوضہ علاقے میں عوامی احتجاجی تحریک شروع ہو گئی اور شہید غلام محمد بلہ کو سوپور میں اسی طرح کے ایک مظاہرے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غلام محمد بلہ کو حریت کانفرنس
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔