ندا یاسر اپنے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر کیوں نہیں آنے دیتیں؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
پاکستان کی معروف مارننگ شو میزبان ندا یاسر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے بڑے بچوں کو سوشل میڈیا سے دور کیوں رکھتی ہیں؟
حال ہی میں ندا یاسر نے صحافی و میزبان ملیحہ رحمان کے یوٹیوب شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنے فبٓنی کیریئر اور ذاتی زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔
ندا یاسر نے بتایا کہ جب ان کے بچے نوعمری میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک موقع پر فیملی پکچرز سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ پھر ان کے بیٹے نے یہ تصاویر اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کردی۔ بعد ازاں ان کے بچوں کے بارے میں منفی تبصرے کیے گئے جس سے وہ دلبرداشتہ ہو گئے۔
ندا یاسر کے مطابق، ’میرے اور یاسر کے پروفیشن کا یہ ایک حصہ ہے ہمیں لوگوں سے پیار بھی ملتا ہے اوران کی تنقید بھی بردا شت کرنی پڑتی ہے، لیکن بچے اس باتوں کو سمجھ نہیں سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے محسوس ہوا بچے ابھی ذہنی طور پر ان سب کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے بچوں کو ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی وجہ سے انہوں نے بڑے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا بند کر دیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا چھوٹا بیٹا بالاج ابھی کم عمر ہے اور سوشل میڈیا کی منفی باتوں سے بے خبر ہے،اسے نہیں معلوم کہ کمنٹس کیا ہوتے ہیں؟ تاہم ایک بار اس کے لمبے بالوں پر بھی تنقید کی گئی جس کے بعد اس نے بال کٹوا لیے۔
ندا یاسر کا کہنا تھا کہ جب ان کا چھوٹا بیٹا سمجھدا ہوجائے گا تو وہ اس کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کرنا بند کردیں گی۔
ندا یاسر کے مطابق ان کا بڑا بیٹا فلم میکنگ میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس وقت اسی شعبے میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ ندا یاسر اور ان کے شوہر یاسر نواز شوبز انڈسٹری کی معروف جوڑی سمجھے جاتے ہیں اور اپنی فیملی کے حوالے سے ہمیشہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر ندا یاسر انہوں نے
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔