لاہور: نجی کمپنی کے مالک نے ساتھی کیساتھ مل کر ملازم حاملہ خاتون کا گینگ ریپ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
کاہنہ میں حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا، جس پر کاہنہ پولیس نے 15 کال پر فوری کارروائی کرتے ہوئے زیادتی میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو جوہر ٹاؤن سے ٹریس کیا گیا۔ مقدمے کی کارروائی کی نگرانی ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی خود کر رہی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون سات ماہ کی حاملہ تھی اور نجی کٹرنگ کمپنی کے ساتھ بطور ویٹر منسلک تھی۔
کٹرنگ کمپنی کے مالک نے بہانے سے خاتون کو ڈیفنس روڈ پر واقع نجی سوسائٹی کے ایک گھر بلایا، جہاں اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن کے مطابق ایک ملزم نے خاتون کو زیادتی سے منع کرنے پر تھپڑ بھی مارا۔ واقعے پر تھانہ کاہنہ میں دفعہ 375A کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان عباس اور اعظم کو مزید تفتیش کے لیے جنڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے، ایس پی شہربانو نقوی نے کہا کہ خواتین کا استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔