بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی آنکھوں کے علاج کے معاملے پر ہولی فیملی اسپتال کی ایمبولینس اڈیالا جیل پہنچ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ہولی فیملی اسپتال کی ایمبولینس گیٹ نمبر 5 سے اڈیالہ جیل کے اندر داخل ہوئی، اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل جانے والی ایمبولینس میں آنکھوں کے علاج کے آلات بھی موجود ہیں اور حکومت کی جانب سے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز بھی اسپتال پہنچ رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق پہلے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا جائے گاجس کے بعد فیصلہ ہو گا کہ عمران خان کو کس اسپتال منتقل کیا جائے۔ یاد رہے کہ اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اسپتال منتقل نہ کرنے تک پارلیمنٹ ہاؤس میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کی آنکھوں کے چیک اپ کے لیے الشفاء آئی اسپتال کے دو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ 16 فروری سے پہلے عدالت میں جمع کرائی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق