پابندی ختم کرنے کی شرط پر امریکا سے جوہری معاہدے کے لیے تیار ہیں، ایرانی نائب وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں اٹھانے پر بات چیت کے لیے تیار ہو تو ایران جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے بعض سمجھوتوں پر غور کر سکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر بعض پابندیاں قبول کرنے کے بدلے اقتصادی پابندیاں ختم کروانا چاہتا ہے، تاہم میزائل پروگرام یا دیگر معاملات کو جوہری مذاکرات سے جوڑنے کی مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہوگا۔ اس سے قبل عمان میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی جس میں عمانی حکام نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ابتدائی مذاکرات مثبت سمت میں گئے ہیں، لیکن حتمی نتیجے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران انتہائی افزودہ یورینیم کو کم سطح تک لانے پر آمادہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام مالی پابندیاں ختم کی جائیں۔
امریکا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی محدود کرے، جبکہ تہران مکمل طور پر افزودگی روکنے کا مطالبہ مسترد کرتا آیا ہے اور جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کی تردید کرتا ہے۔
یاد رہے کہ 2015 کا جوہری معاہدہ، جسے باراک اوباما کی خارجہ پالیسی کی اہم کامیابی سمجھا جاتا تھا، اسے صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکا کو الگ کر لیا تھا۔
اس معاہدے کو Joint Comprehensive Plan of Action (JCPOA) کہا جاتا ہے، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔