زیرو افزودگی کا معاملہ زیرِ بحث نہیں، ایران
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بی بی سی کے مطابق، تخت روانچی نے کہا کہ یہ مذاکرات کم و بیش مثبت سمت میں آگے بڑھے ہیں، لیکن حتمی رائے قائم کرنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس وقت گیند امریکی کورٹ میں ہے اور امریکہ کو اپنی سنجیدگی ثابت کرنا ہوگی۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے شعبۂ خارجہ پالیسی کے مطابق ایران کے نائب سیاسی وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی نے بی بی سی سے گفتگو میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے بارے میں کہا ہے کہ اب یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، اگر وہ خلوصِ نیت کا مظاہرہ کریں تو مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے کے راستے پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ پابندیوں کے موضوع پر بات چیت کے لیے تیار ہوں تو ہم بھی اس معاملے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق دیگر امور پر گفتگو کے لیے آمادہ ہیں۔ تخت روانچی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی طرح اعلیٰ سطح پر افزودہ کیے گئے 400 کلوگرام یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر بھیجنے پر رضامند ہوگا، تو انہوں نے کہا کہ ابھی یہ کہنا بہت جلدی ہے کہ مذاکرات کے دوران کیا پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا تاثر یہ ہے کہ امریکی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر کسی معاہدے تک پہنچنا ہے تو توجہ صرف جوہری مسئلے پر مرکوز رکھنی ہوگی۔
نائب وزیرِ خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ زیرو افزودگی کا معاملہ اب زیرِ بحث نہیں اور ایران کے نقطۂ نظر سے یہ مذاکرات کی میز پر موجود ہی نہیں ہے۔ ایرانی مذاکرات کار نے امریکہ کے ساتھ بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت سے تہران کے انکار پر بھی زور دیا اور کہا جب ہم پر اسرائیلیوں اور امریکیوں نے حملہ کیا تو ہمارے میزائل ہی ہمارے کام آئے، تو پھر ہم کیسے اپنی دفاعی صلاحیتوں سے خود کو محروم کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں؟ انہوں نے مذاکرات میں امریکی رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سنتے ہیں کہ وہ مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات علانیہ بھی کہی ہے اور نجی گفتگو میں بھی، عمان کے ذریعے، یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ان مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں۔
خطے میں امریکی افواج کی موجودگی پر ردِعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں یہ محسوس ہوا کہ یہ ہماری بقا کے لیے خطرہ ہے تو ہم اس کے مطابق جواب دیں گے۔ خطے کے ممالک کے ساتھ قریبی مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے اس ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ہم خطے میں جنگ کے خلاف تقریباً متفقہ رائے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسائل کا حل سفارت کاری کے ذریعے نکل آئے گا، تاہم اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ہوشیار رہنا ہوگا تاکہ کسی قسم کی اچانک صورتِ حال کا شکار نہ ہو۔ بی بی سی کے مطابق، تخت روانچی نے کہا کہ یہ مذاکرات کم و بیش مثبت سمت میں آگے بڑھے ہیں، لیکن حتمی رائے قائم کرنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تخت روانچی نے کہا کہ کے مطابق انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز