سال2026 کا پہلا چاندگرہن3 مارچ کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: رواں سال کا پہلا چاند گرہن 3مارچ کو ہوگا، اس موقع پر آسمان سرخ رنگ کی روشنی سے منور ہو جائے گا۔
چاند گرہن کے موقع پر آسمان سرخ رنگ کی روشنی سے منور ہو جائے گا۔ جبکہ مکمل چاند گرہن درحقیقت بلڈ مون ہوگا۔جس کا آغازپاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 50 منٹ پرہوگا۔مکمل چاند گرہن پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 4 بج کر 33 منٹ پر ہوگا۔
پاکستان میں بلڈ مون کو نہیں دیکھا جاسکے،بلکہ یہ نظارہ وسطی اور شمالی امریکا، شمال مشرقی ایشیا آسٹریلیا اور وسطی بحر الکاہل میں دیکھنے میں آئے گا مگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لائیو اسٹریمز کے ذریعے یہ نظارہ دیکھنا ممکن ہوگا۔
خیال رہے کہ گرہن کے دوران چاند کی رنگت اس وقت سرخ ہوتی ہے جب زمین، سورج اور چاند کے درمیان میں آجاتی ہے اور اس موقع پر چاند زمین کے سائے کے تاریک ترین حصے سے گزر رہا ہوتا ہے ، جس سے سورج کی روشنی اس تک براہ راست نہیں پہنچتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چاند گرہن
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔