ماہر ڈاکٹرز کی زیر نگرانی جیل میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ شروع، جیل انتظامیہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بانی پی ٹی آئی : فائل فوٹو
اسلام آباد کے بہترین اسپتالوں کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل میں موجود ہے، ماہر ڈاکٹرز کی زیر نگرانی جیل میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ شروع کردیا گیا۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کا چیک اپ جاری ہے، ڈاکٹروں کی ٹیم مختلف طبی آلات اور ادویات بھی ساتھ لائی ہے، طبی ٹیم کی رپورٹ جلد مرتب کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوت کے باوجود کوئی پی ٹی آئی رہنما جیل نہیں پہنچا، میڈیکل ٹیم پی ٹی آئی قیادت کی نمائندگی کے لیے جیل میں ڈھائی بجے سے منتظر تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل پینل میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں، میڈیکل پینل کچھ دیر میں بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کرے گا، میڈیکل پینل کے معائنہ کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کی آنکھوں کے چیک اپ کے لیے الشفاء آئی اسپتال کے 2 ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اسپتال منتقل نہ کرنے تک پارلیمنٹ ہاؤس میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میں بانی پی ٹی آئی میڈیکل پینل جیل میں
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔