عمران خان کیلئے الشفا آئی ٹرسٹ میں 10کمرے مختص، ڈاکٹرز کے نام بھی سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
عمران خان کیلئے الشفا آئی ٹرسٹ میں 10کمرے مختص، ڈاکٹرز کے نام بھی سامنے آگئے WhatsAppFacebookTwitter 0 15 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کو آنکھوں کے علاج کے لیے الشفا آئی ٹرسٹ اسپتال منتقل کیے جانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جہاں ان کے لیے 10 کمرے مخصوص کر دیے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے صدر جنرل (ر)رحمت خان نے بتایا ہے کہ اسپتال کے ایڈمنسٹریشن بلاک میں حال ہی میں تعمیر کیے گئے نوعمر مریضوں کے 10 کمرے اس مقصد کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریض کو کمرے سے آپریشن تھیٹر تک خصوصی راستے کے ذریعے منتقل کیا جا سکے گا تاکہ سیکیورٹی اور رازداری کو یقینی بنایا جا سکے۔اسپتال کے شعبہ وٹریو ریٹینا کو بھی مریض کی آمد اور علاج کے حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس شعبے میں ریٹینا سے متعلق پیچیدہ امراض کا علاج کیا جاتا ہے، جن میں میکیولر ڈی جنریشن، ذیابیطس کے باعث ریٹینوپیتھی، عمر رسیدگی سے متعلق ریٹینا کی بیماریاں، پیچیدہ ریٹینا ڈیٹیچمنٹ، ریٹینا کی شریانوں کے امراض اور آنکھ کے پچھلے حصے کے زخم شامل ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنرل رحمت خان کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی، جو شعبہ وٹریو ریٹینا کے سربراہ اور چیف کنسلٹنٹ ہیں، کو ریٹینا کے پیچیدہ امراض کے علاج میں ایشیا کے بہترین ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ریٹینا ڈیزیز ڈیپارٹمنٹ کے 10 ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور مریض کا معائنہ کرنے والے میڈیکل بورڈ کی سربراہی بھی انہی کو سونپی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹ کے سربراہ بریگیڈیئر خالد یزدانی کو سیکیورٹی سمیت دیگر انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو علاج کی مدت کے دوران اسپتال میں ہی رکھا جائے گا اور اس عرصے میں ایڈمنسٹریشن بلاک کی طرف جانے والی سڑک کو سیل کر دیا جائے گا جبکہ مخصوص علاقے میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی ایم ایف مشن تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے 25فروری کو پاکستان کا دورہ کریگا آئی ایم ایف مشن تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے 25فروری کو پاکستان کا دورہ کریگا سب سے پہلے بنگلہ دیش، نومنتخب طارق رحمان کا اسلام آباد اور دہلی کو پیغام پاکستان میں اسپرنگ فیسٹیول گالا کی ثقافتی مصنوعات کی نمایاں مقبولیت ٹی 20 ورلڈکپ: پاک بھارت ٹاکرا، میچ کے دوران بارش کے امکانات سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی پنجاب کے محنت کشوں کے لیے ماہ رمضان کے لیے بڑا ریلیف راولپنڈی: عمران خان کے علاج سے متعلق اہم پیشرفت؛ ایمبولینس اڈیالہ جیل پہنچ گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔