اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ ، دعوت کے باوجود پی ٹی آئی کا کوئی نمائندہ نہ پہنچا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 February, 2026 سب نیوز

راولپنڈی(سب نیوز) اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج کے معاملے پر جیل میں علاج کا ریکارڈ ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بھجوا دیا گیا جب کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم کا چیک کیا گیا۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وائٹل سائنز بلڈ پریشر، نبض، ٹمپریچر اور شوگر کا مکمل چارٹ بھی ارسال کیا گیا۔
بانی کی آنکھوں سے متعلق صورتحال کی رپورٹ، کنسلٹنس رپورٹس اور میڈیکل اسٹاف کی تفصیلات بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی گئیں۔قبل راولپنڈی ہولی فیملی اسپتال کی ایمبولینس اڈیالہ جیل پہنچی، ایمبولینس میں مختلف ادویات،میڈیکل ایکوپمنٹ لایا گیا، ایمبولینس گیٹ 5 سے اڈیالہ جیل کے اندر بجھوائی گئی۔ذرائع کے مطابق ایمبولینس میں آنکھوں کے معائنہ کے طبی آلات میں موجود تھے، عمران خان صاحب کے طبی معائنے کے لئے اسلام آباد کے بہترین اسپتالوں کے بہترین ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم پی ٹی آئی کی قیادت کی نمائندگی کے لیے جیل میں ڈھائی بجے سے منتظر رہی۔ٹیم میں ڈاکٹر امجد، ڈاکٹر ندیم قریشی، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹر رفیق شامل تھے۔
بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹروں کی ٹیم واپس روانہ ہو گئی، ٹیکنیشن بھی 5رکنی ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہمراہ تھے، ڈاکٹر اپنی رپورٹ مکمل کرکے حکومت کے حوالے کریں گے۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے تقریبا ایک گھنٹہ تک اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا۔حکومت کی دعوت اور کافی انتظار کے باوجود تحریک انصاف کا کوئی بھی رہنما عمران خان صاحب کے چیک اپ میں شرکت کے لیے جیل نہیں پہنچا، کوئی بھی رہنما اسپتال نہیں پہنچا تو ڈاکٹرز نے چیک اپ شروع کر دیا۔ذرائع کے مطابق کب کس ڈاکٹر نے بانی کا معائنہ کیا اس کی تفصیلات بھی شامل ہیں، آن ڈیوٹی ڈاکٹرز روزانہ تین مرتبہ بانی پی ٹی آئی کے وائٹل سائنز اور طبی معائنہ کرتے ہیں جبکہ روزانہ طبی معائنہ اور وائٹل سائنز کا ریکارڈ باقاعدگی سے مرتب کیا جاتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمستقبل کی وبائوں سے بچا وکیلئے ون ہیلتھ اپروچ ناگزیر ہے، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی مستقبل کی وبائوں سے بچا وکیلئے ون ہیلتھ اپروچ ناگزیر ہے، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی سی ڈی اے ، ایم سی آئی کے زیر اہتمام گرین موبیلٹی کے فروغ کیلئے سائیکلنگ چیمپئن شپ کا انعقاد عمران خان کیلئے الشفا آئی ٹرسٹ میں 10کمرے مختص، ڈاکٹرز کے نام بھی سامنے آگئے آئی ایم ایف مشن تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے 25فروری کو پاکستان کا دورہ کریگا سب سے پہلے بنگلہ دیش، نومنتخب طارق رحمان کا اسلام آباد اور دہلی کو پیغام پاکستان میں اسپرنگ فیسٹیول گالا کی ثقافتی مصنوعات کی نمایاں مقبولیت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کا

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین