اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا مارگلہ ٹریل تھری پر انسدادِ موٹاپا ہائیک کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا مارگلہ ٹریل تھری پر انسدادِ موٹاپا ہائیک کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 15 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نے ڈاکٹر اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال کے اشتراک سے مارگلہ ہائیکنگ ٹریل تھری پر موٹاپے کے خلاف ہائیک کا ایک پرجوش اور بامقصد انعقاد کیا۔ یہ سرگرمی محض ایک واک نہیں تھی بلکہ صحت مند طرزِ زندگی کے عملی پیغام کی جیتی جاگتی تصویر بن گئی، جہاں کلاس رومز کی سنجیدگی کی جگہ پہاڑوں کی تازگی نے لے لی۔تقریب کا آغاز رنگا رنگ اور علامتی انداز میں ہوا، جس میں ربن کاٹنے اور مقابلے کے آغاز کی تقاریب شامل تھیں۔ اس ماحول دوست مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں آئی ایم ڈی سی ہائیک اینڈ ایڈونچر کلب نے، پروفیسر ڈاکٹر احمد رضا کی قیادت میں، کلیدی کردار ادا کیا اور ذمہ دارانہ تفریح کی ایک عمدہ مثال قائم کی۔
سات سو سے زائد شرکا، جن میں میڈیکل، ڈینٹل، فزیکل تھراپی، میڈیکل لیب ٹیکنالوجی اور نرسنگ کے طلبہ و طالبات، اساتذہ، عملی میدان میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز و سرجنز اور ہیلتھ کیئر مینجمنٹ کے نمائندگان شامل تھے، پرجوش انداز میں دلکش پہاڑی راستے پر گامزن رہے۔ اداروں کی اعلی قیادت بھی پورے وقت موجود رہی اور شرکا کی حوصلہ افزائی کرتی رہی، جبکہ انہیں اس امر پر سراہا گیا کہ انہوں نے راستے کو کچرے سے پاک رکھ کر پہاڑوں کی قدرتی خوبصورتی کے تحفظ کی بہترین مثال قائم کی۔اس موقع پر جی اے کے ہیلتھ کیئر کے گروپ سی ای او یاسر خان نیازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسی سرگرمیاں محض تفریح نہیں بلکہ ادارے کے اس وژن کا عملی اظہار ہیں جس کے تحت طلبہ کو صرف کامیاب ڈاکٹرز، نرسز اور ہیلتھ کئیر ورکرز ہی نہیں بلکہ ہمہ جہت، باشعور اور معاشرے سے جڑے ہوئے پیشہ ور افراد بنایا جاتا ہے- یعنی ایسے افراد جو سیکھنے کے جذبے، اخلاقی اقدار، سماجی خدمت اور صحت مند زندگی کے اصولوں کو اپنی شناخت بنائیں۔
شہر جہاں عموما سیاسی بحثوں اور ٹریفک کے شور سے پہچانا جاتا ہے، وہاں اس دن پہاڑی راستے قہقہوں، قدموں کی چاپ اور ایک مضبوط پیغام سے گونجتے رہے اور مستقبل کے معالجین نے صحت کا محض درس نہیں دیا بلکہ اس صحت مندانہ سرگرمی کے زریعے خود اس پر عمل کر کے دکھایا، جی اے کے ہیلتھ کیئر کمیونیکیشنز کے سربراہ عمران علی غوری نے میڈیا سے گفتگو میں اسی احساس کو اجاگر کیا۔تقریب کا اختتام خوشگوار اور یادگار انداز میں ہوا، جہاں موسیقی، دلچسپ سرگرمیوں اور مقابلے میں کامیاب ہونے والے طلبہ میں انعامات کی تقسیم نے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔ طلبہ، والدین، اساتذہ اور دیگر شرکا نے انتظامیہ کو اس کامیاب اقدام پر سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں ثابت کرتی ہیں کہ صحت کا پیغام سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوشگوار بھی ہو سکتا ہے اور یہ جاری رہنی چاہئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی آئی پی یو کی قیادت سے اہم ملاقاتیں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی آئی پی یو کی قیادت سے اہم ملاقاتیں بنگلا دیش کی نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری، پاکستان کو بھی دعوت نامہ وصول اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ ، دعوت کے باوجود پی ٹی آئی کا کوئی نمائندہ نہ پہنچا مستقبل کی وبائوں سے بچا وکیلئے ون ہیلتھ اپروچ ناگزیر ہے، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی سی ڈی اے ، ایم سی آئی کے زیر اہتمام گرین موبیلٹی کے فروغ کیلئے سائیکلنگ چیمپئن شپ کا انعقاد عمران خان کیلئے الشفا آئی ٹرسٹ میں 10کمرے مختص، ڈاکٹرز کے نام بھی سامنے آگئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔