بنگلہ دیش میں بی این پی کو 50 فیصد کے قریب ووٹ، حکومت سازی کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی الیکشن کمیشن کی جاری کردہ پارٹی وائز ووٹ شیئر کے مطابق بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) 49.97 فیصد ووٹ حاصل کر کے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے اور وہ ملک میں نئی حکومت بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ووٹ خریدنے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کو ہونے والے 13ویں قومی پارلیمنٹ کے انتخابات میں بی این پی نے 49.
پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد بی این پی حکومت بنانے کی کارروائی شروع کر رہی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان کی قیادت میں نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب منگل کو دوپہر نیشنل پارلیمنٹ کمپلیکس کے ساؤتھ پلازہ میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا
انتہائی اہم تقریب کے لیے عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 13 ممالک کے سربراہان حکومت کو دعوت دی ہے جن میں چین، بھارت، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، ملیشیا، برونائی، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی رسمی دعوت دی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عبوری حکومت نے بی این پی قیادت سے مشاورت کے بعد یہ بین الاقوامی دعوت نامے جاری کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ نئی حکومت کے قیام کے دوران عالمی سطح پر روابط کو مستحکم کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش حکومت سازی بی این پی طارق رحمان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش حکومت سازی بی این پی
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔