کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت وقت کا طرز عمل آمرانہ سوچ کی عکاسی کر رہا ہے۔ گزشتہ تین دن سے بزرگ سیاسی رہنماؤں تک خوراک، پانی اور ادویات جیسی بنیادی انسانی ضروریات کی ترسیل روکنا نہ صرف غیر جمہوری بلکہ صریحاً غیر انسانی اقدام ہے، جس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے رہنماء علامہ علی حسنین حسینی، مجلس علماء مکتب اہلبیت کے رہنماء علامہ سید ہاشم موسوی و دیگر نے کہا ہے کہ قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے پرامن دھرنے کے ردعمل میں حکومتی رویہ شدید تشویش کا باعث ہے۔ حکومت وقت کا طرز عمل آمرانہ سوچ کی عکاسی کر رہا ہے۔ گزشتہ تین دن سے بزرگ سیاسی رہنماؤں تک خوراک، پانی اور ادویات جیسی بنیادی انسانی ضروریات کی ترسیل روکنا نہ صرف غیر جمہوری بلکہ صریحاً غیر انسانی اقدام ہے، جس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ رہنماؤں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایوان بالا کے قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ایک پرامن جدوجہد کرنے والے بزرگ سیاسی و مذہبی رہنماء ہیں اور ہماری ریڈ لائن ہیں۔ وہ شوگر جیسے مرض میں مبتلا ہیں، لہٰذا ادویات تک ان کی بلا تعطل رسائی ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔ اگر حکومتی اقدامات کے باعث انہیں کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی، اور ملک بھر میں شروع ہونے والا احتجاج فارم 47 کی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

ایم ڈبلیو ایم رہنماؤں نے کہا کہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، محمود خان اچکزئی اور دیگر سیاسی قائدین آئین پاکستان کے تحت اپنے جائز اور دستوری حق کو استعمال کرتے ہوئے پرامن جمہوری احتجاج کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت ایسے غیر ذمہ دارانہ اور جابرانہ رویے کے ذریعے قوم کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ جب سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں کے قائدین حزب اختلاف کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھا جائے، تو جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ ایسی حکومت اخلاقی طور پر عوام پر حکمرانی کا حق نہیں رکھتی۔ ہم ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں اپنا مؤقف دہراتے ہیں کہ کسی بھی غیر آئینی اقدام، غیر جمہوری رویے اور غیر انسانی سلوک کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پارلیمانی اراکین کے ساتھ پیش آنے والا رویہ اسی غیر جمہوری اور غیر انسانی پالیسی کا تسلسل ہے۔ حکومت کی نااہلی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عوام اور منتخب نمائندوں کو اپنے بنیادی مطالبات کے لئے بھی احتجاج اور دھرنوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یاد رکھے کہ تاریخ میں کسی بھی ظالم کا انجام کبھی اچھا نہیں رہا۔ بڑے سے بڑے فرعونوں کا بھی احتساب ہوا ہے، اور موجودہ حکمرانوں اور ان کے غیر انسانی رویے کا بھی حساب ضرور ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غیر جمہوری حکومت وقت نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟