بنگلا دیش کے نئے وزیراعظم کی تقریب حلف برداری میں شہباز شریف بھی مدعو ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا: بنگلا دیش میں انتخابی عمل کے مکمل ہونے کے بعد متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری 17 فروری کو ہوگی۔
بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں وزر اعظم شہباز شریف سمیت جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک) کے رکن ممالک کے سربراہانِ حکومت کو مدعو کیا جائے گا۔ جبکہ تقریب میں شرکت کے لیے سارک کے رکن ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے سربراہانِ حکومت کو دعوت دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔
بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق متوقع وزیراعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری 17 فروری کو ہوگا اور اس تقریب کا انعقاد عبوری حکومت کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق 13 ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے نئی حکومت کی تشکیل کا باضابطہ عمل شروع کر دیا ہے۔ پارٹی دو تہائی سے زائد نشستیں جیت کر حکومت بنانے جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حلف برداری کی تقریب
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا