Daily Mumtaz:
2026-07-24@05:53:02 GMT

ذاتی معالجین کوبانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے، ترجمان

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

ذاتی معالجین کوبانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے، ترجمان

راولپنڈی (نیوزڈیسک)تحریک انصاف نے اڈالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ مسترد کردیا۔ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق فیملی اور ذاتی معالجین کے بغیر طبی معائنہ مسترد کرتے ہیں، معائنے کے وقت جیل آنے کا کہنا بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، حساس طبی معاملات میں فیصلہ کرنے کا حق بانی کی فیملی کا بنتا ہے، معاملہ پارٹی قیادت کی موجودگی یاعدم موجودگی کانہیں تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فیملی اس وقت تک فیصلہ نہیں کرسکتی جب تک ذاتی معالجین موجودنہ ہوں، پارٹی قیادت کو مدعو کرنے کا کوئی جواز نہیں، ذاتی معالجین کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے، بانی کی فیملی سےفوری ملاقات کرائی جائے۔

واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ مکمل ہوگیا۔ میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں آنکھوں کا تفصیلی چیک اپ کیا گیا۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات میں طبی معائنہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کی ٹیم اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئی، ٹیکنیشن بھی 5رکنی ڈاکٹرزکی ٹیم کے ہمراہ تھے، ڈاکٹراپنی رپورٹ مکمل کرکے حکومت کے حوالے کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی ذاتی معالجین

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر