ہم ایران كیساتھ مذاكرات كے نتائج كا انتظار کر رہے ہیں، مارکو روبیو
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں ہماری موجودگی کا مقصد، امریکی افواج پر کسی بھی حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری وسائل اور صلاحیت کو یقینی بنانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی وزیر خارجہ "مارکو روبیو" نے کہا کہ وہ "ایران" پر حملے کے بارے میں بات نہیں کریں گے، کیونکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی ترجیح سفارت کاری ہے۔ انہوں نے یہ بیان مغربی ایشیاء میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے اور ایران کے خلاف حملے کی دھمکی کے ساتھ ساتھ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں ہماری موجودگی کا مقصد، امریکی افواج پر کسی بھی حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری وسائل اور صلاحیت کو یقینی بنانا ہے۔ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کا حوالہ بھی دیا۔ ان مذاکرات کا پہلا دور مسقط میں ہوا اور اطلاعات کے مطابق منگل کو جنیوا میں امریکی صدر کے نمائندوں کی موجودگی میں دوسرا دور منعقد ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ "جیرڈ کُشنر" اور "اسٹیو ویٹکاف" ایران کے بارے میں اہم اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم اس اجلاس کے نتائج کا انتظار کریں گے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ہی نے گزشتہ روز یہ دعویٰ بھی کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں، لیکن ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔ جس كے جواب میں معاون ایرانی وزیر خارجہ "مجید تخت روانچی" نے BBC سے گفتگو میں کہا کہ گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ اُسے ثابت کرنا ہے کہ وہ معاہدے کا خواہاں ہے یا نہیں۔ اگر امریکی مخلص ہیں، تو مجھے یقین ہے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ ایرانی آرمی چیف جنرل "امیر حاتمی" نے وزارت خارجہ کے دورے کے دوران کہا کہ اگر دشمن نے کوئی غلطی کی، تو اسے ایسا جواب دیا جائے گا جو آج سے پہلے كسی نے نہ دیکھا ہو گا، نہ سنا ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔