ابھی ڈیڑھ سال ہوا ہے، جیل مردوں کی طرح کاٹو : صدر آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
سٹی 42 : صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم اور مخدوم کو گورنر بنایا، ہم سرائیکیوں کی عزت کرتے ہیں، میری مادری زبان سرائیکی ہے۔
ان خیالات کا اظہار صدرِ مملکت نے رحیم یار خان میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران کیا، کہا کہ بی بی کی سوچ جیسا لیڈر نظر نہیں آتا، بےنظیر کو دوست ممالک نے پاکستان واپسی سے منع کیا، بی بی نے کہا، ’میں نے عوام سے وعدہ کیا ہے، پاکستان جاؤں گی۔
ناکوں پر بدتمیزی کا کلچر ختم ؛وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس صلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر
آصف علی زرداری نے کہا کہ بی بی کے نصیب میں شہادت تھی، میرے گمان میں نہیں تھا کہ ایسا ہوگا، جب وہ گاڑی میں بیٹھیں، میں نے منع کیا کہ جانے کی ضرورت نہیں، وہ نہ ڈرنے والے بھٹو کی بیٹی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ ابھی ڈیڑھ سال ہوا ہے، جیل مردوں کی طرح کاٹو، عورتوں کی طرح کیوں رو رہے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ میری بہن کو رات کو پکڑا گیا، اس وقت یاد نہیں آیا، بےنظیر کو پانچ سال سکھر جیل میں بند کیا گیا۔
پاک، بھارت میچ سے قبل اوپنر ابھیشیک شرما کا اہم ویڈیو بیان آگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.