ممبر جی بی کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ اختلافِ رائے کو طاقت، بھوک اور اذیت کے ذریعے کچلنا آمریت کی علامت ہے، جو جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ پُرامن احتجاج ہر شہری اور عوامی نمائندے کا آئینی حق ہے، جسے کسی بھی صورت میں سلب نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ممبر جی بی کونسل و صدر مجلس علماء مکتب اھلبیت بلتستان شیخ احمد علی نوری نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت دیگر پُرامن احتجاج کرنے والے پارلیمنٹیرینز پر کھانا، پانی اور دوائی بند کرنا کھلی یزیدیت اور بدترین ریاستی جبر کی مثال ہے۔ اس غیر انسانی اقدام کے ذریعے نہ صرف منتخب عوامی نمائندوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ آئینِ پاکستان، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی بھی کی جا رہی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈے کسی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ اختلافِ رائے کو طاقت، بھوک اور اذیت کے ذریعے کچلنا آمریت کی علامت ہے، جو جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ پُرامن احتجاج ہر شہری اور عوامی نمائندے کا آئینی حق ہے، جسے کسی بھی صورت میں سلب نہیں کیا جا سکتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر تمام احتجاجی پارلیمنٹیرینز کو بنیادی انسانی سہولیات فراہم کی جائیں، اور ذمہ دار عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کے بعد سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ جبر کے بجائے مکالمے اور آئینی راستے اختیار کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس ظلم کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہو گی۔ عوام ایسے اقدامات کو نہ بھولیں گے اور نہ ہی قبول کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن