کرپشن کے خلاف اصلاحات: وزیراعظم کا ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے آزادانہ جائزے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اسلام آباد:وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدعنوانی کے عالمی اشاریے میں پاکستان کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے آزاد ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ ان شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں ملک انسدادِ بدعنوانی اقدامات میں پیچھے ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ Transparency International کی تازہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا گیا، جس میں پاکستان کی کارکردگی کو ملے جلے رجحانات کا حامل قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کے برعکس حکومت نے بین الاقوامی جائزوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی روشنی میں اصلاحاتی اقدامات کا راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیرِاعظم چاہتے ہیں کہ کرپشن سے متعلق نشاندہی شدہ خامیوں کو وفاقی و صوبائی سطح پر مشاورت سے دور کیا جائے اور ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر جامع قومی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 100 میں سے 28 نمبر حاصل کیے اور 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر رہا، جبکہ گزشتہ سال اس کا اسکور 27 اور درجہ بندی 135 تھی،معمولی بہتری کے باوجود مجموعی درجہ بندی میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی، جو ادارہ جاتی چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ اسکور آٹھ عالمی ذرائع کے ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیا گیا، جن میں حکمرانی، شفافیت اور احتساب کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ان ذرائع میں سے ایک نے بہتری ظاہر کی، تاہم نفاذِ قانون اور قانون کی بالادستی سے متعلق اشاریوں میں واضح پیش رفت نظر نہیں آئی۔ مثال کے طور پر World Economic Forum کے ایگزیکٹو اوپینین سروے میں پاکستان کا اسکور 33 سے کم ہو کر 32 ہو گیا، جس سے کاروباری طبقے کے رشوت اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق خدشات ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح World Justice Project کے رول آف لا انڈیکس میں اسکور 26 سے کم ہو کر 25 رہ گیا، جو احتسابی نظام کی کمزوریوں کی علامت ہے۔
پانچ دیگر اداروں، جن میں World Bank اور Bertelsmann Stiftung سمیت مختلف عالمی تجزیاتی ادارے شامل ہیں، نے کسی نمایاں تبدیلی کی نشاندہی نہیں کی، پاکستان کا مجموعی اسکور 28 عالمی اوسط 42 سے خاصا کم ہے، جبکہ کم بدعنوانی والے ممالک کے اسکور 80 سے زائد ہیں۔
حکومتی حکام کے مطابق مجوزہ کمیٹی نفاذِ قانون، عوامی مالی نظم و نسق، عدالتی کارکردگی اور ادارہ جاتی احتساب کے نظام کا تفصیلی تجزیہ کرے گی اور قابلِ عمل سفارشات پیش کرے گی۔ حکومت کو امید ہے کہ آزاد تجزیے اور مربوط پالیسی کے ذریعے نہ صرف عالمی درجہ بندی بہتر بنائی جا سکے گی بلکہ ملک کے اندر شفافیت اور احتساب کا نظام بھی مضبوط ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :