اسلام ٹائمز: امریکی صدر نے ایک اور حربہ استعمال کیا اور اس بار اپنے طیارہ بردار جنگی جہاز خطے کی جانب روانہ کر کے ایرانی عوام کے ارادے، ہم آہنگی اور قومی اتحاد کو نشانہ بنایا۔ لیکن ایرانی قوم نے 11 فروری 2026ء کے دن اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر اس حربے کو بھی ناکام بنا ڈالا۔ اس بار بھی ایرانی قوم نے دشمن کو شکست فاش دے دی۔ اس ملین مارچ کا نتیجہ ایرانی قوم میں ہر وقت سے بڑھ کر باہمی اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ اور بلاشبہ دشمنوں کی بے بسی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس وقت ایرانی قوم کے مقابلے میں دشمن طاقتوں کی مایوسی اور بے بسی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ تحریر: عباس حاجی نجاری
11 فروری اور اس سے پہلے 12 جنوری 2026ء کے دن اسلامی جمہوریہ نظام کے حق میں ایرانی شہریوں کے ملین مارچ نے دنیا کے سامنے ایران کے قومی وقار، طاقت اور عزت کا عظیم مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے نہ صرف ایران کے دشمنوں کو مایوس کیا ہے بلکہ انہیں ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے اور شکست دینے کے لیے حکمت عملی اختیار کرنے سے بھی بے بس کر دیا ہے۔ یہ بے بسی اور بے چارگی حالیہ دنوں میں ایران دشمن طاقتوں کے موقف اور طرز عمل سے واضح طور پر قابل مشاہدہ ہے جبکہ اب تک وہ ایرانی قوم کو شکست دینے کے لیے تمام ممکنہ ہتھکنڈے بھی بروئے کار لا چکے ہیں اور بے شک اس میں انہیں بھرپور ناکامی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایران پر مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کے بعد ٹرمپ اور نیتن یاہو نے دعوی کیا کہ وہ جنگ کے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
یعنی انہوں نے ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں اور علاقائی اثر و رسوخ کو مکمل طور پر ختم کر ڈالا ہے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں مزید شدت لا کر ایرانی عوام کے اس باہمی اتحاد اور قومی ہم آہنگی کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جو 12 روزہ جنگ کے دوران اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں حکمفرما اسلامی جمہوریہ نظام کو ختم کر دینے کے لیے 8 اور 9 جنوری 2026ء کے فسادات کی منصوبہ بندی کی اور ان پر عملدرآمد بھی کیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب یہ فسادات اپنے عروج پر تھے تو ٹرمپ فسادیوں سے مدد کا وعدہ کرتا رہا لیکن 12 جنوری 2026ء کے دن ایران کی انقلابی قوم نے ملین مارچ کے ذریعے اس کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا اور یوں ایران کے خلاف سات ماہ سے جاری امریکی اور اسرائیلی نرم جنگ بھی واضح شکست کا شکار ہو گئی۔
اس کے بعد امریکی صدر نے ایک اور حربہ استعمال کیا اور اس بار اپنے طیارہ بردار جنگی جہاز خطے کی جانب روانہ کر کے ایرانی عوام کے ارادے، ہم آہنگی اور قومی اتحاد کو نشانہ بنایا۔ لیکن ایرانی قوم نے 11 فروری 2026ء کے دن اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر اس حربے کو بھی ناکام بنا ڈالا۔ اس بار بھی ایرانی قوم نے دشمن کو شکست فاش دے دی۔ اس ملین مارچ کا نتیجہ ایرانی قوم میں ہر وقت سے بڑھ کر باہمی اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ اور بلاشبہ دشمنوں کی بے بسی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس وقت ایرانی قوم کے مقابلے میں دشمن طاقتوں کی مایوسی اور بے بسی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جس کی کئی علامات ظاہر ہو رہی ہیں، جیسے:
1)۔ بارہ روزہ جنگ کے بعد ابتدائی دنوں میں امریکی اور اسرائیلی حکام نے زور و شور سے یہ دوے کرنا شروع کر دیے کہ ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتیں پوری طرح تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ اس کا علاقائی اثر و رسوخ بھی ختم ہو چکا ہے۔ لہذا انہوں نے ایران سے اپنی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر بند کر دینے، افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مکمل خاتمے، میزائل پروگرام روک دینے اور خطے میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کی حمایت ختم کر دینے جیسے نامعقول اور جاہ طلبانہ مطالبات شروع کر دیے۔ ایران نے ان ناجائز مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا اور دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ مذاکرات صرف اور صرف جوہری پروگرام کے بارے میں ممکن ہیں اور اس بارے میں بھی پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی اور جویری سرگرمیوں کے مسلمہ حق سے کسی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔ امریکہ آخرکار ایران کی طے کردہ شرائط پر اس سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہو گیا۔
2)۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے پر فوجی چڑھائی اور مزید جنگی بحری بیڑہ بھیجنے کا دعوی ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کے سیاسی اور فوجی سربراہان کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کاروائی میں کسی کامیابی کی امید دکھائی نہیں دے رہی۔ دوسری طرف چونکہ امریکہ کا مکمل انحصار اپنے جنگی بحری بیڑوں پر ہے لہذا ایران ان کی کمزوریوں سے پوری طرح واقف ہو چکا ہے اور امریکی حکام بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کی جانب سے ممکنہ طور پر داغے جانے والے سینکڑوں میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے مقابلے میں اس کے جنگی بحری بیڑے پوری طرح بے بس اور بے دفاع ہو جائیں گے۔ یہ حقیقت خاص طور پر غاصب صیہونی رژیم کے خلاف 12 روزہ جنگ کے بعد کھل کر عیاں ہو چکی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے سیاسی اور سیکورٹی حلقے اس کا بخوبی اعتراف بھی کر چکے ہیں۔
3)۔ امریکہ کے فیصلہ ساز اداروں پر صیہونی لابی کے بے پناہ اثرورسوخ نے، جو صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران زیادہ واضح ہو کر سامنے آیا ہے، ٹرمپ کو ایران کے مقابلے میں مزید بے بس کر دیا ہے۔ اس اثرورسوخ نے دنیا بھر میں امریکہ کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکہ دورے کے دوران اور اس کے بعد ایسا موقف اپنایا اور ایسے بیانات دیے جنہوں نے دنیا والوں پر ثابت کر دیا کہ امریکہ پر حکمفرما نظام مکمل طور پر اس صیہونی لابی کے زیر اثر ہے جو آج عالمی سطح پر شدید نفرت کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ اس حقیقت کے عیاں ہو جانے کے بعد اب عالمی سطح پر بھی امریکہ کی حیثیت پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ صیہونی حکمرانوں سے عالمی نفرت کی ایک مثال اسرائیلی صدر کے حالیہ دورہ آسٹریلیا کے دوران سامنے آ چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی قوم نے کے مقابلے میں اپنے عروج پر روزہ جنگ کے ملین مارچ 2026ء کے دن ایران کے نے ایران ایران کی ہم آہنگی کے دوران کے خلاف کی جانب کے لیے اور اس کے بعد اور بے چکی ہے کر دیا
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔