data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جنیوا: ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں اٹھانے پر بات چیت کے لیے تیار ہو تو ایران جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے بعض سمجھوتوں پر غور کر سکتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں تخت روانچی نے بتایا کہ ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، وہ میزائل پروگرام یا دیگر معاملات کو جوہری مذاکرات سے جوڑنے کی مخالفت کرتا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہوگا۔ اس سے قبل عمان میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی جس میں عمانی حکام نے ثالث کا کردار ادا کیا۔

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ابتدائی مذاکرات مثبت سمت میں گئے ہیں، حتمی نتیجہ سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ ایران جوہری ادارہ کے سربراہ نے بھی عندیہ دیا کہ ایران انتہائی افزودہ یورینیم کو کم سطح تک لانے پر آمادہ ہو سکتا ہے بشرطیکہ تمام مالی پابندیاں ختم کی جائیں۔

واضح رہے کہ امریکا مسلسل ایران سے اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی محدود کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہےجبکہ تہران نے مکمل افزودگی روکنے کی تجویز مسترد کی ہے اور جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کی تردید بھی کی ہے۔

یہ مذاکرات 2015 کے Joint Comprehensive Plan of Action (JCPOA) کے پس منظر میں ہو رہے ہیں، جسے امریکا کے سابق صدر باراک اوباما کی خارجہ پالیسی کی اہم کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں امریکا کو اس معاہدے سے الگ کر دیا تھا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟