جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جینیوا میں، ایران نے لچک کا اشارہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں اٹھانے پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو تو تہران جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے بعض سمجھوتوں پر غور کرنے کو تیار ہے۔
یہ بات ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو اتوار کو شائع ہوا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں یا حدود سے متعلق بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے بدلے میں عائد اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:
تاہم تہران بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ اس معاملے کو میزائل پروگرام سمیت دیگر امور سے منسلک کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔
مجید تخت روانچی نے تصدیق کی کہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جینیوا میں ہوگا۔
اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکا کے درمیان عمان میں دوبارہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مذاکرات مجموعی طور پر مثبت سمت میں گئے، تاہم حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اورجیرڈ کشنر پرمشتمل امریکی وفد منگل کی صبح ایرانی حکام سے ملاقات کرے گا، جب کہ امریکی۔ایرانی رابطوں میں عمانی نمائندے ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔
ایران کے سربراہِ جوہری توانائی نے پیر کو کہا کہ اگر تمام مالی پابندیاں ختم کر دی جائیں تو ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:
مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اسی مثال کے ذریعے ایران کی لچک کو اجاگر کیا۔
سینیئر ایرانی سفارت کار نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تہران صفر یورینیم افزودگی کی شرط قبول نہیں کرے گا۔
گزشتہ برس معاہدے کی راہ میں یہی نکتہ بڑی رکاوٹ بنا رہا تھا، کیونکہ امریکا ایران کے اندر یورینیم کی افزودگی کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی ممکنہ راہ سمجھتا ہے۔
مزید پڑھیں:
ایران نے ایسے کسی بھی ارادے کی تردید کی ہے۔
اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے امریکا کو الگ کر لیا تھا، جو بارک اوبامہ کی خارجہ پالیسی کی نمایاں کامیابی سمجھا جاتا تھا۔
یہ معاہدہ، جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے اس پر عائد پابندیوں میں نرمی فراہم کرتا تھا تاکہ تہران ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افزودگی ایٹم بم ایران بارک اوبامہ تہران جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن جوہری ہتھیار خارجہ پالیسی ڈونلڈ ٹرمپ میزائل پروگرام یورینیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افزودگی ایٹم بم ایران بارک اوبامہ تہران جوائنٹ کمپری ہینسو پلان ا ف ایکشن جوہری ہتھیار خارجہ پالیسی ڈونلڈ ٹرمپ میزائل پروگرام یورینیم ایران کے کے لیے
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔