امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور کہاں ہوگا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
سوئٹزرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ ہفتے جنیوا میں مذاکرات ہوں گے، جن کی میزبانی عمان کرے گا۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ممکنہ معاہدے پر پیش رفت کرنا ہے۔
سوئس وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق سوئٹزرلینڈ ہمیشہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کے لیے تیار رہتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
اس سے قبل 6 فروری کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان میں امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے بالواسطہ مذاکرات کیے تھے، جن میں عمانی حکام نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا ایران پر اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ صدر ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی بھیج چکے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ 1980 کے یرغمالی بحران کے بعد سے ایران میں امریکی مفادات کی نمائندگی کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان قونصلر امور بھی سنبھالتا ہے۔
دوسری جانب جنیوا میں ہی امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان بھی مذاکرات متوقع ہیں، جن کا مقصد جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔