سوئٹزرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ ہفتے جنیوا میں مذاکرات ہوں گے، جن کی میزبانی عمان کرے گا۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ممکنہ معاہدے پر پیش رفت کرنا ہے۔

سوئس وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق سوئٹزرلینڈ ہمیشہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کے لیے تیار رہتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اس سے قبل 6 فروری کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان میں امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے بالواسطہ مذاکرات کیے تھے، جن میں عمانی حکام نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

رپورٹس کے مطابق امریکا ایران پر اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ صدر ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی بھیج چکے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ 1980 کے یرغمالی بحران کے بعد سے ایران میں امریکی مفادات کی نمائندگی کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان قونصلر امور بھی سنبھالتا ہے۔

دوسری جانب جنیوا میں ہی امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان بھی مذاکرات متوقع ہیں، جن کا مقصد جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے درمیان ایران کے

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟