فرانس کا جرمنی کے ساتھ جوہری دفاعی تعاون کے منصوبے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فراانس نے کہا ہے کہ اس نے تاریخ میں پہلی بار جرمنی کے ساتھ جوہری دفاعی حکمت عملی(نیوکلئیر ڈیٹرنس)پر تعاون کا منصوبہ بنایا ہے۔ صدر ماکروں نے میونخ سیکورٹی کانفرنس کے موقع پر کہا کہ جوہری دفاعی پالیسی کو ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ فرانس جرمن چانسلر اور چند دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ سٹریٹجک مکالمہ کر رہا ہے تاکہ قومی جوہری نظریے کو جو آئینی تحفظ کے تحت ہے، مخصوص تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں اور مشترکہ سلامتی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ جرمنی کے ساتھ اس نوعیت کا پہلا مکالمہ ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔