امریکہ کیساتھ جوہری مذاکرات پر عراقی و ایرانی وزرائے خارجہ کی مشاورت
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سید عباس عراقچی سے اپنی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں عراقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بغداد، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ رواں شب عراقی وزیر خارجہ "فواد حسین" نے اپنے ایرانی ہم منصب "سید عباس عراقچی" كے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو كی۔ جس میں فواد حسین نے "جنیوا" میں آئندہ ممکنہ ملاقات کے دوران امریکہ کے ساتھ مثبت نتائج حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ عراق کے وزیر خارجہ نے کہا کہ بغداد، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ بعض خبر رساں ذرائع نے بتایا کہ رواں ہفتے اس بات کا امکان ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا نیا دور منعقد ہو۔ تاہم ابھی تک ایرانی اور امریکی حکام نے اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔