امریکہ کیساتھ جوہری مذاکرات پر عراقی و ایرانی وزرائے خارجہ کی مشاورت
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سید عباس عراقچی سے اپنی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں عراقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بغداد، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ رواں شب عراقی وزیر خارجہ "فواد حسین" نے اپنے ایرانی ہم منصب "سید عباس عراقچی" كے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو كی۔ جس میں فواد حسین نے "جنیوا" میں آئندہ ممکنہ ملاقات کے دوران امریکہ کے ساتھ مثبت نتائج حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ عراق کے وزیر خارجہ نے کہا کہ بغداد، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ بعض خبر رساں ذرائع نے بتایا کہ رواں ہفتے اس بات کا امکان ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا نیا دور منعقد ہو۔ تاہم ابھی تک ایرانی اور امریکی حکام نے اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔