پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پاکستان اور ترکیہ نے زرعی تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے مفاہمت کی ایک اہم یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جسے دوطرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ Special Investment Facilitation Council (ایس آئی ایف سی) کی فعال سہولت کاری سے طے پایا۔ ایس آئی ایف سی ادارہ جاتی ہم آہنگی، عالمی شراکت داری اور سرمایہ کار دوست ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس کی بدولت پاکستان کے ڈیری اور لائیو اسٹاک شعبے نے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی معاونت سے Pakistan Agricultural Research Council اور ترکیہ کے Agricultural Technologies Cluster کے درمیان یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے تحت زرعی تحقیق، اختراعات اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے جدید کارپوریٹ لائیو اسٹاک فارمنگ کو فروغ ملے گا، برآمدی ویلیو چین کی ترقی ممکن ہوگی اور زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ مزید برآں، زرعی و لائیو اسٹاک شعبے میں ادارہ جاتی روابط، نجی شعبے کی شمولیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان اور ترکیہ کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی بلکہ زرعی شعبے میں پائیدار ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ یہ معاہدہ ایس آئی ایف سی کی موثر سہولت کاری اور مربوط ادارہ جاتی ہم آہنگی کا واضح ثبوت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اور ترکیہ
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔