الیکشن کمیشن کے کمشنر انوارالاسلام سرکار نے واضح کیا ہے کہ متنازع حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی صرف اسی صورت ممکن ہوگی جب عدالت اس حوالے سے حکم جاری کرے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 11 جماعتی اتحاد نے 32 حلقوں میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش انتخابات: شیرپور‑3 میں امیدوار کی وفات، ووٹنگ ملتوی

اتوار کو الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انوارالاسلام سرکار نے بتایا کہ کمیشن کو اتحاد کی جانب سے جمع کرائی گئی باضابطہ شکایت موصول ہو چکی ہے اور اس کا جواب بھی دے دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی متاثرہ فریق کے لیے عدالت سے رجوع کرنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں، تاہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا فیصلہ عدالت کے حکم سے مشروط ہوگا۔

11  جماعتی اتحاد نے الزام لگایا ہے کہ 32 حلقوں میں ووٹوں میں ردوبدل کیا گیا اور ان کے امیدواروں کو بے ضابطگیوں کے ذریعے شکست دی گئی۔ اتحاد نے متنازع نشستوں پر دوبارہ گنتی کی درخواست بھی دی ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر دوبارہ گنتی ممکن نہیں کیونکہ انتخابی نتائج کا سرکاری گزٹ پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔ اس تاثر کو بھی مسترد کیا گیا کہ کمیشن نے عجلت میں گزٹ نوٹیفکیشن شائع کیا۔ انوارالاسلام سرکار کے مطابق تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور گزٹ بروقت جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: بھرپور ٹرن آؤٹ، ’اسٹیجڈ الیکشن‘ کا دور ختم، چیف الیکشن کمشنر

انہوں نے اعلان شدہ نتائج پر نظرثانی کے مطالبے کو غیر متعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندگان کے لیے عدالتی راستہ کھلا ہے۔ کمشنر کا دعویٰ تھا کہ 13ویں پارلیمانی انتخابات آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں منعقد ہوئے اور نتائج توقعات کے مطابق بلکہ اس سے بھی بہتر رہے۔

شرپور-3 حلقے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ 13ویں عام انتخابات کے بعد مختلف حلقوں کے نتائج پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے اور اپوزیشن اتحاد نے اپنے تحفظات کو قانونی شکل دینے کا عندیہ دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انوارالاسلام سرکار بنگلہ دیش بنگلہ دیش الیکشن کمیشن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انوارالاسلام سرکار بنگلہ دیش بنگلہ دیش الیکشن کمیشن انوارالاسلام سرکار الیکشن کمیشن دوبارہ گنتی بنگلہ دیش اتحاد نے کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے

سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔

دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن