بھارت کے ارب پتی بزنس مین انیل امبانی اور جیفری ایپسٹین کے درمیان ہونے والی گفتگو کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے سوالات اٹھا دیے۔

مزید پڑھیں: ’ایک لمبی سویڈش سنہرے بالوں والی خاتون‘، انیل امبانی کی جیفری ایپسٹین سے فرمائش کا انکشاف

انیل امبانی اور جیفری ایپسٹین کے درمیان ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نے کاروبار کی مالی معاونت سے لے کر دفاعی شعبے میں تجارتی امور تک مختلف موضوعات پر بات چیت کی۔ یہ تفصیلات امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ فائلز میں شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 20 اپریل 2019 کو انیل امبانی نے جیفری ایپسٹین کو میسج پر لکھا: ’آپ کارپوریٹ سطح پر مالی معاونت کیسے کر سکتے ہیں؟‘

جیفری ایپسٹین اور بھارتی صنعتکار کے درمیان کئی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نے مجرم کے پرتعیش گھر میں ڈنر کے دوران ملاقات کی اور کاروباری امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ایک موقع پر جیفری ایپسٹین نے انیل امبانی کو خبردار کیاکہ ان کی شہرت کے حوالے سے خطرات موجود ہیں، لیکن پھر کہا: ’میرے گھر میں بہت سے مالی ماہرین موجود ہیں۔ آپ لطف اٹھائیں گے۔ اگر گوگل کا مسئلہ ہو تو کئی وزرا اس کو ختم کر دیں گے۔‘

دستاویزات کے مطابق جیفری ایپسٹین نے انیل امبانی کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر کافی وقت صرف کیا۔ ان کے پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے ان پر مقدمہ چلائے جانے سے چند ماہ قبل دونوں کے درمیان قریبی رابطہ موجود تھا۔

ایک پیغام میں انیل امبانی نے لکھا: ’آپ کس کی تجویز کریں گے؟ جیفری ایپسٹین نے جواب دیا: ’ایک لمبی سویڈش سنہری بالوں والی خاتون، تاکہ ملاقات دلچسپ ہو جائے۔‘ امبانی جواب میں کہتے ہیں اس کا انتظام کریں۔

جیفری ایپسٹین کے ساتھ انیل امبانی کے رابطوں پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر انیل امبانی کا نام جیفری ایپسٹین فائلز میں نمایاں ہے تو وہ جیل میں کیوں نہیں۔

مزید پڑھیں: شیطان نہیں ہوں، پاکستان اور انڈیا میں پولیو مہم کو فنڈز دیے تھے، جیفری ایپسٹین کا انٹرویو میں دعویٰ

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے وفاقی وزیر ہردیپ سنگھ پر بھی تنقید کی، تاہم وفاقی وزیر نے تمام الزامات کی تردید کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انیل امبانی جیفری ایپسٹین رابطے سوالات وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انیل امبانی جیفری ایپسٹین سوالات وی نیوز جیفری ایپسٹین انیل امبانی کے درمیان

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان