بورڈ آف پیس ممالک نے غزہ کیلیے 5 ارب ڈالر اور امن فورس فراہم کرنے کا وعدہ کیا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن : ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بورڈ آف پیس کے رکن ممالک جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں غزہ میں تعمیرِ نو اور انسانی امداد کے لیے 5 ارب ڈالر سے زائد کے وعدے کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں لکھا کہ رکن ممالک نے اقوامِ متحدہ کی منظوری سے قائم کی جانے والی اسٹیبلائزیشن فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا بھی عزم کیا ہے۔
یہ اجلاس ڈونلڈ ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہوگا اور اس میں 20 سے زائد ممالک کے وفود شرکت کریں گے۔ بورڈ کے قیام کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کی گئی تھی جو ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے،پاکستانی نمائندگی میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اجلاس میں شریک ہوں گے۔
اجلاس سے پہلے حماس نے غزہ میں امن فورس بھیجنے والے ممالک کے لیے شرائط واضح کی ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ امن فورس سرحد پر رہے اور فلسطین کے سول، سیاسی اور سکیورٹی امور میں مداخلت نہ کرے، عالمی فورس پر اعتراض نہیں اگر وہ فریقین کے درمیان حفاظتی تہہ کے طور پر کام کرے، فلسطین کے داخلی امور میں مداخلت ناقابل قبول ہوگی اور عالمی اہلکاروں کو قابضین کے متبادل کے طور پر تصور کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔