اب سعودی عرب میں وزٹ ویزا پر زائد قیام کرنے پر قید اور جرمانے ہونگے
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: اب سعودی عرب میں وزٹ ویزا پر زائد قیام کرنے پر قید اور جرمانے ہوں گے۔
سعودی عرب کی حکومت نے وزٹ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی سعودیہ میں قیام کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنے کا آغاز کر دیا۔ ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود کسی وجہ سے وہاں رہنے پعر مجبور افراد کو اپنے ویزا سے زیادہ قیام کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینا ہو گی۔ بر وقت اطلاع نہ دینے پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔
ناکوں پر بدتمیزی کا کلچر ختم ؛وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس صلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر
سعودی حکام نے ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی وہاں رکے رہنے والوں کے لئے سخت سزاؤں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے سعودی پبلک سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ وزٹ ویزے کی میعاد ختم ہونے پر وزیٹر کے اوور اسٹے کی اطلاع نہ دینے پر 50 ہزار ریال تک جرمانہ کیا جائے گا اور چھ ماہ تک قید کی سزا ہو گی۔
گزشتہ دنوں کے دوران سعودی عرب میں اقامہ ، لیبر اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پاک، بھارت میچ سے قبل اوپنر ابھیشیک شرما کا اہم ویڈیو بیان آگیا
پبلک سکیورٹی نے حالیہ اطلاع سوشل پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دی ہے۔ اس اطلاع میں شہریوں اور رہائشیوں پر زور دیا گیا کہ وہ وزٹ ویزا پر اپنی مدت سے زیادہ قیام کرنے والے افراد کے بارے میں اطلاع دیں۔وزٹ ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت قانونی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکام کے مطابق اگر خلاف ورزی کرنے والا مقیم غیر ملکی ہو اور وہ وزیٹرز کے اوور اسٹے کی رپورٹ نہ کرے تو اسے بھی مملکت سے بے دخلی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت: ویلنٹائن ڈے پر 32 سالہ لڑکے نے گرل فرینڈ اور خود کو گولی مار لی
پبلک سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے مملکت کے مقامی شہریوں اورمقیم غیرملکیوں پر زور دیا کہ وہ اقامہ، ملازمت اور سرحدی امن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو ٹرانسپورٹ، روزگار، رہائش، پناہ فراہم نہ کریں۔ تمام شہری ایسے غیر ملکیوں سے کسی بھی قسم کے تعاون سے گریز کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قیام کرنے خلاف ورزی وزٹ ویزا ختم ہونے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔