جنگ بندی کے باوجودغزہ پر اسرائیلی حملے، 12 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: اسرائیل نے غزہ میں تازہ بمباری کے دوران 12 فلسطینیوں کو شہید کر دیا جبکہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں کا پہلا ہدف بے گھر فلسطینیوں کا ایک کیمپ تھا، جہاں 4 افراد شہید ہوئے۔ دوسرا حملہ جنوب میں واقع خان یونس میں کیا گیا، جس میں 5 افراد ہلاک ہوئے جبکہ شمالی غزہ میں ایک فلسطینی شہری بھی بمباری کے نتیجے میں شہید ہوا۔ حملوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے اور کئی مکانات تباہ یا نقصان پہنچا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ اسرائیل نے بے گھر فلسطینیوں کے قتل کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قیام کردہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے قبل جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے، حماس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی کارروائیوں کو روکا جائے اور فلسطینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
غزہ میں ان تازہ حملوں کے بعد علاقے میں امن کی صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی ہے اور مقامی شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری جنگ بندی اور متاثرہ شہریوں کے لیے ہنگامی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ کے اسپتالوں میں زخمیوں کا ہجوم بڑھ گیا ہے اور طبی عملہ زخمیوں کو بروقت علاج فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔ مقامی حکومت اور حماس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بمباری کے خطرات سے محفوظ رہنے کے لیے پناہ گاہوں میں رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔