بیوی سے اجازت کے بغیر ایک اور شادی؛ لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
لاہور:
ہائیکورٹ نے بیوی سے اجازت کے بغیر ایک اور شادی کرنے کے معاملے پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر پہلی بیوی کو مہر کی رقم فوری ادا کرنے کا پابند ہے۔
عدالت نے بغیر اجازت شادی کرنے والے شوہر کو پہلی بیوی کو 10 لاکھ روپے حق مہر ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ مزید برآں عدالت نے شوہر کو طلاق کے موثر ہونے تک پہلی بیوی کو ماہانہ 15 ہزار روپے خرچ اور سامان جہیز کی ویلیو کے مطابق رقم ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
عدالت نے درخواست گزار بیوی کی حق مہر، خرچ اور سامان جہیز کی ویلیو کے مطابق رقم دینے کی درخواست منظور کر لی اور قرار دیا کہ یہ قانونی شق بیویوں کے مالی حقوق کے تحفظ اور من مانی شادیوں کو روکنے کے لیے ہے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کر دی۔
فیصلہ جسٹس عابد حسین چٹھہ نے مہناز سلیم کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں جاری کیا۔ درخواست گزار نے شوہر سے سامان جہیز اور نان نفقہ کے حصول کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا تھا۔ کیس میں 3 نکات حق مہر کی رقم، خرچہ اور سامان جہیز کی واپسی سے متعلق تنازع پر مبنی تھے۔
واضح رہے کہ فیملی کورٹ نے 2024ء میں شوہر کو عدت کے دوران 15 ہزار روپے ماہانہ خرچ اور حق مہر کی 10 لاکھ روپے رقم 45 ہزار ماہانہ اقساط میں ادا کرنے کا حکم دیا تھا جب کہ سامان جہیز کی ویلیو کے مطابق 10 لاکھ 500 روپے ادا کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔
بعد ازاں فریقین نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی جس پر ٹرائل کورٹ نے شوہر کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے بیوی کو حق مہر اور خرچ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور سامان جہیز کی ویلیو 10 لاکھ 500 سے کم کر کے 4 لاکھ روپے کر دی۔ اس کے بعد درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
درخواست گزار کے مطابق شوہر نے بغیر اجازت تیسری اور پھر چوتھی شادی کی اور اسے تین کپڑوں میں گھر سے نکال دیا۔ فیملی کورٹ کے مطابق تنازع کے بعد شوہر نے زبانی طلاق دی لہٰذا وہ صرف عدت کے عرصے تک خرچ دینے کا پابند ہے، تاہم درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ زبانی طلاق قانون کی نظر میں جائز نہیں اور قانونی لوازمات پورے کیے بغیر میاں بیوی کے درمیان شادی برقرار رہتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر بیوی کے گھر چھوڑنے کا قانونی جواز موجود ہو تو شوہر طلاق کے موثر ہونے تک اس کا ماہانہ خرچ دینے کا پابند ہے۔
ریکارڈ کے مطابق شوہر نے بیوی کو صرف پہلی شادی کا بتایا جس میں بیوی فوت ہو چکی تھی، تاہم شادی کے بعد درخواست گزار کو معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے دوسری شادی کر چکا ہے اور وہ تیسری بیوی ہے۔
فریقین کے درمیان یہی تنازع کی وجہ بنی اور درخواست گزار کو گھر سے نکال دیا گیا۔ شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ بیوی نے نکاح نامہ پر جعلی انٹری کے ذریعے مہر کی رقم 10 لاکھ درج کی جب کہ اس کے مطابق بیوی اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی اور وہ خرچ کی حق دار نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ شوہر کا دوسری شادی کو چھپانا ریکارڈ سے ثابت ہوا ہے اور وہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ بیوی کا گھر چھوڑنے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔ اخلاقی طور پر شوہر کا فرض تھا کہ وہ نکاح کے وقت اپنی دوسری شادی کے بارے میں حقائق بتاتا۔
عدالت کے مطابق یہ کہیں ثابت نہیں ہوا کہ درخواست گزار نے کسی مس کنڈکٹ یا نافرمانی کے باعث گھر چھوڑا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار 2021 سے قانونی طور پر قائم شادی کے خاتمے تک 15 ہزار روپے ماہانہ خرچ سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ وصول کرنے کی حق دار ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عام طور پر حق مہر کی رقم شادی کے ختم ہونے پر ادا کی جاتی ہے، تاہم اگر شوہر بیوی کی اجازت کے بغیر ایک اور شادی کرے تو وہ پہلی بیوی کو فوری طور پر حق مہر کی رقم ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سامان جہیز کی ویلیو اور سامان جہیز کی درخواست گزار پہلی بیوی کو قرار دیا کہ ادا کرنے کا فیملی کورٹ مہر کی رقم حق مہر کی کا پابند عدالت نے کے مطابق شادی کے شوہر نے کورٹ کے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔