Express News:
2026-07-24@04:59:42 GMT

غلط العام نام اورالفاظ (1)

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

غلط العام، ان ناموں اور الفاظ کو کہتے ہیں جو ہوتے تو غلط ہیں بلکہ بعض تو اصل کی الٹ ہوتے ہیں لیکن جب زبانوں پر ایک مرتبہ چڑھ جاتے ہیں تو پھر اتر کر نہیںدیتے، چاہے کتنی ہی کوشش کریں، جیسے عربی میں ’’فلوس‘‘ سکے کو کہتے ہیں ،اس ترکیب کے مطابق مالدار کانام مفلس ہوناچاہیے لیکن یہاں الٹ ہے کہ فلوس نہ رکھنے والے کو مفلس کہاجاتا ہے بلکہ آگے پھر افلاس، مفلسی ، مفلسانہ جیسے کئی اور غلط العام بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں۔ لفظ ’’آریا‘‘ بھی ایسا ہی ایک لفظ ہے جو قطعی غلط اوربالکل الٹ معنی میں مشہورہوچکا ہے۔

ہندوستان کے محقق پروفیسر محمد مجیب نے اپنی کتاب ’’تاریخ تمدن ہند‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک انگریز ماہربشریات جولین پکسلے کی کتاب ’’وی یورپین‘‘ کے حوالے سے ، اس نام ’’آریا‘‘ کو اب ہمیں بالکل ہی ترک کردینا چاہیے لیکن افسوس کہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہے۔ تاریخ میں جب لفظ ’’آریا ‘‘کے معنی آتے ہیں تو لکھا ہوتا ہے ، شریف، بہادر ، سخی ، مہمان نواز، دیالو، اعلیٰ، بلند اخلاق ،غیرت مند اورعالیمرتبت وغیرہ ، یعنی تمام صفات انسانی سے بھرا ہوا اورہمہ صفت موصوف ہوتا ہے لیکن یہ سارے معنی ’’مجازی‘‘ ہیں، لفظ آریا کے اصلی، لغوی اورلسانی معنی نہیں ہیں کیونکہ اس لفظ کا لغوی اورلسانی مفہوم کسی نے معلوم کیااورنہ بیان کیا ہے بلکہ چھپایا گیا ہے ۔

لفظ آریا کی بنیاد ’’آر‘‘ بلکہ ’’آڑ‘‘ یا ’’اڑ‘‘ ہے اوریہ اس زبان کالفظ ہے جو سب سے پہلے انسان کے منہ سے نکلی تھی، ذرا توجہ دی جائے تو ہند کی ساری زبانوں میں خصوصاً ان زبانوں میں جو ’’قبل از ہند یورپی‘‘یا پروٹوانڈو یورپین کہلاتی ہیں، ان میں ’’اڑ‘‘ بکثرت استعمال ہوا ہے،باقی کسی بھی زبان یا لسانی نظام میں (ڑ) کی آواز موجود نہیں ہے، یہاں تک کہ سنسکرت جو ہند یورپی زبان ہے کے ’’الفابیٹ‘‘ میں اب بھی یہ حرف یاآواز موجود نہیں ہے چنانچہ سنسکرت میں جب بھی یہ لفظ آتا ہے، وہاں (ڈ) لگایا جاتا ہے جیسے بوڑھے کو بڈھا ، سڑک کو سڈک، لڑائی کو لڈائی ،گھڑ ے کو گڈا ، لڑکا ، لڑکی کو لڈکا، لڈکی، اڑے کو اڈے کہاجاتا ہے۔ رومن میں ( آر) کے نیچے ایک نقطہ لگایا جاتا ہے ۔

الفاظ آڑ ، اڑی ، اڑنا ، اڑ گیا ، سب میں مطلب رکاوٹ، رکنے اورٹھہرجانے کے ہیں اورچونکہ سب سے بڑی، سب سے زیادہ، سب سے عام، وہ مقام ہے جہاں ہرچیز آکر ٹھہر جاتی ہے، اس کے آگے یا نیچے اورکوئی مقام نہیں ہے۔

اس تک آتی ہے توہرچیز ٹھہرجاتی ہے

 جیسے پانا ہی اس اصل میں مرجانا ہے

اڑ اور پڑ ہی ٹھہرنے ، رکنے اوربڑھنے کا مقام ہے۔ لفظ پڑ بھی اصل میں اڑ ہے ۔ یہ اڑ ، بیل، گدھے یا گھوڑ ے وغیرہ کا کام کرتے کرتے اڑ جانا،اکثر زمین پر لیٹ یابیٹھ جاتا ہے، اسے ’’اڑی‘‘ یا ’’اڑی مار‘‘ کہتے ہیں ۔ لفظ آڑا، بھی رکاوٹ کے معنی میں ہے۔

ہندی الاصل ساری زبانوں مثلاً،اردو پشتو، پنجابی ، سندھی، بلوچی، کشمیری، گوجری ، ہندکو، سرائیکی اورجنوب کی ساری زبانوں جسے تامل، ملیالم ،کیرل ،بنگالی ، نیپالی، مطلب یہ کہ ہند میں قدیم زمانوں سے مروج ساری زبانوں میں حرف ’’ڑ‘‘ بکثرت موجود ہے، خصوصاً پشتو میں تو یہ اتنا زیادہ ہے کہ کوئی ایسا جملہ مشکل سے ملے گا جس میں’’ ڑ‘‘ نہ آتی ہو بلکہ پشتو میں ایسے الفاظ بھی ہیں جو ’’ڑ‘‘ سے شروع ہوتے ہیں جب کہ دیگر لغات میں بھی ’’ڑ ‘‘کاحرف تو لکھا ہوتا ہے لیکن حروف تہجی کے اس پندرہویں حرف سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا ہے لیکن پشتومیں ایسے الفاظ بکثرت موجود ہیں، جیسے ڑوند، (اندھا) ڑنگ( برباد کرنا، ڑق(ہلنا) وغیرہ ۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ ’’ڑ ‘‘کی یہ آواز قدیم ترین ان زبانوں کی آواز ہے جب انسان کے آلات نطق یامخرج یا ووکل بکس،کچا تھا ،کھردرا تھا ، اب بھی اکثر بچے اوردیہاتی (ر) کی جگہ (ڑ) بولتے ہیں۔ مرد کو مڑد،گرد کو گڑد،یاجان مان ، دان وان ،ران کو ’’رانڑ‘‘ بولتے ہیں بلکہ ن کو تو (ٹ) بولنا عام ہے ۔

لفظ اڑ چو نکہ زمین اورزراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے اورزراعت انسان کا پہلا پیشہ اورہنر تھا، اس لیے جو لوگ اس پیشے یاہنر سے نابلد ہوتے تھے ،ان کو اناڑی (ان آڑی ) کہا جاتا تھا، آڑی یعنی زراعت کار اور’’ان آڑی‘‘ غیر زراعت کار ، غیر ہنر مند یاانجان ۔ بعد میں جب انسان نے اوربھی ہنر سیکھ لئیے ، پیشے اختیار کیے تو ہرپیشے کے انجان، نابلد اورمبتدی لوگوں کے لیے بھی اناڑی کالفظ بولا جانے لگا ، آج بھی دیہات میں زمینداروں کے برعکس دوسرے پیشہ وروں کو ’’کمی کمین کہاجاتا ہے اورسمجھا جاتا ہے ۔

اس اڑ کی اب بھی پشتو میں کئی شکلیں موجود ہیں، سب سے پہلے تو زمین جوتنے یا ہل چلانے کو ’’اڑول‘‘ کہاجاتا ہے جس میں آہستہ آہستہ الٹنے کے معنی بھی شامل ہوگئے۔ زمین کو الٹ پلٹ اوراوپر نیچے کرنا، پشتو میں’’اڑول‘‘ بنا، پھر یہی اڑول کالفظ خانہ بدوش قبائل میں بھی ،گرانے، رکھنے اورڈالنے کے لیے استعمال ہونے لگا چنانچہ کسی جگہ ڈیرہ ڈالنے یا سامان کو کڈہ یاکڈے کہاجاتا ہے۔آج بھی پشتو میں خانہ بدوش کے لفظ ’’کڈہ پر سر‘‘ یعنی گھر کو سر پر رکھے ہوئے ہوتے ہیں اوراڑول کو انگریزی لفظ ’’ایرائیول‘‘ میں بھی دیکھا جاتا ہے ۔

ایرائیول کسی جگہ پہنچ جانا یا کسی زمین پر اترنا ہے اورساتھ ہی ایریا ، ایرینا۔ پشتو کے شمالی لہجے میں لفظ اڑتاؤ ایک کثیرالاستعمال لفظ ۔۔اڑتول بمعنی گرانے پھینکنے کے۔ واڑتوہ (پھینک دو یاگراؤ) مہ اڑتاؤ( مت گراؤ یاپھینکو) اڑتاؤ بہ شے (گرجاؤ گے ) اڑتاؤ شو (گرگیا) کشتی میں کسی کو زیر کرنے کے لیے اڑتاؤ بولا جاتا ہے ، فلاں نے فلاں کو اڑتاؤ کیا ، مٹی چٹادی اڑتاؤ کردیا، جیسا جیسا مخرج ہموار ہوتا گیا ، اڑ کالفظ بھی ار میں بدلتا گیا ، چنانچہ پشتو میں ’’ار‘‘ بنیادکو کہاجانے لگا ۔ ار رکھنا بلکہ ذات پات کے لیے بھی ار بولاجانے لگا۔

اسی دورمیں زبانیں بھی دوحرفی سے سہ حرفی ہوگئیں تو ارکادوحرفی لفظ بھی سہ حرفی ہوکر ارت بن گیا جو اب بھی پشتو میں کھلے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ارت زمین ، ارت میدان ،ارت جوتے بمقابلہ تنگ اس میں ٹھیک وہی معنی ہیں جوعربی میں عرض بمقابلہ طول کے ہیں ، بیوی کو بھی ارتینہ کہا جاتا ہے کیوں کہ قدیم زمانوں سے عقائد میں زمین کو آسمان کی بیوی یا ارتینہ کہا جاتا رہا ہے ، زمین ماں اورآسمان باپ۔ ہندی دھرم میں دیوتاؤں کی بیویوں کو ان کی اردھانجلی یعنی نصف شکتی کہاجاتا ہے ۔اس سہ حرفی دور میں آر سے ہندی میں اردھ۔ فارسی میں ارد عربی میں ارض اورانگریزی میں ارتھ کے الفاظ بن گئے ۔ چنانچہ تاریخ میں لفظ آریا صرف زراعت کاروں کے لیے صحیح ہے جب کہ غلط العام کے طورپر یہ لفظ ان لوگوںپر چسپاں کیاگیا جو آریا تھے ہی نہیں بلکہ آریوں کے جدی پشتی دشمن اساک خانہ بدوش تھے ، اساک بمعنی گھوڑے والے جن کو یونانیوں نے ’’سیتھین‘‘ سائیتھین لکھا ہے ، اساک ، سک ، سکت ، سکتیں اورسائتھین۔

ایرانی ان کو ’’تورانی‘‘ کہتے ہیں اورہندی کشتری (کش توری) چنانچہ آریا صرف ایرانی تھے، باقی جہاں جہاں بھی یہ خانہ بدوش گئے اورآباد ہوئے ،اساک تھے اورآریا کے غلط العام نام سے مشہور ہوئے بلکہ کیے گئے اوراس کی بھی وجہ موجود ہے ،عام طورسیدھی سادی اورسمجھ میں آنے والی بات ہے کہ نقل مکانی ، کوچ ، ہجرت اوریہاں سے وہاںجانے کی ضرورت جانورپالوں کو رہتی ہے ۔یوں کہیے کہ انسانوں کے ان دونوں گروہوں کی اپنی اپنی مجبوری ہوتی ہے ،زراعت کے پیٹ بھرنے کاذریعہ زمین ہوتی ہے اورجانورپال کا گزربسر جانور پر ہوتا ہے ۔

(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہاجاتا ہے غلط العام کہتے ہیں پشتو میں ہوتا ہے جاتا ہے اب بھی کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی