کھپرو: رمضان سے قبل ہی منافع خوروں نے نرخ بڑھادیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کھپرو (نمائندہ جسارت) رمضان المبارک سے قبل ہی اشیا خورونوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا مافیا کی جانب سے شہری پریشان سرکاری افسران دفاتر محدود اعلی حکام سے نوٹس کے مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق۔رمضان المبارک سے قبل ہے اشیا خورونوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا جبکہ مافیا ایک بار پھر سے سرگرم ہے جس کے باعث گھی دال اٹا کوکنگ آئل چینی دیگر کے سامان مہنگا کر دیا گیا ککنگ ائل کچھ روز قبل 480 روپے کلو تھا جو ساڑھے پانچ سو روپے کلو کر دیا گیا حکومت سندھ کی جانب سرکاری اٹے کے ریٹ 107 روپے کلو ہے مگر اٹا چکی فلور مل اور مارکیٹ کے من مانی جاری ہے 130 روپے کلو میں سیل کر رہے ہیں دودھ 200 روپے کلو دہی 240 روپے کلو اسی طرح مونگ دال 350 روپے کلو ملتی تھی رمضان المبارک قبل 450 روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے اسی طرح ہری دال جو ساڑھے 300 روپے کلو تھی وہ بھی 400 کلو میں فروخت ہو رہی ہے چائے کی پتی پانچ ہزار روپے کلو تک بیچی جا رہی ہے کہ مگر انتظامیہ ان کے خلاف کاروائی نہیں کرتے ہیں جب کہ کچھ روز قبل ڈی سی سانگھڑ کی جانب سے ڈی سی سانگھڑ آفیس ایک میٹنگ کا اغاز کیا جس میں شہر کی وپاری یونین نے شرکت کی اور ریٹ میں کمی کی یقین دہانی بھی کرائے گی مگر اْلٹا ہو گیا یقین دہانی نہیں کرائی گئی ریٹ دگنے کا دیے گئے ہیں مارکیٹ میں اسی طرح بکرے کا گوشت بھی 2200 روپے کلو میں فروخت کر رہے ہیں جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے 1600 روپے کلو کا ریٹ دیا گیا ہے کوئی عمل درامد نہیں کیونکہ پرائس کنٹرول کمیٹی فوڈ ڈیپارٹمنٹ ان کے خلاف کاروائی نہیں کرتا تو ان سے حساب کتاب باندھ لیا جاتا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کر دیا گیا روپے کلو کی جانب کلو میں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔