data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ریحان راجپوت نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے غریب عوام کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے، روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرکے زخیرہ اندوزوں نے حکومت کی رٹ کو چیلنج کردیا ہے، فروٹ، سبزی، مصالحہ جات، خوردنی تیل، چاول، دال، بیسن کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوگئی ہیں، رمضان میں استعمال ہونے والے مشروبات کی قیمتوں میں بھی سو روپے اضافہ کردیا گیا ہے، ان سارے عمل میں محکمہ پرائز کنٹرول، ضلعی انتظامیہ کہیں نظر نہیں آرہی ہے، ذخیرہ اندوز جس چیز پر چاہئے قیمتیں بڑھادیتے ہیں بس انتظامیہ صرف اپنی مخصوص ریٹ لسٹ جاری کردیتی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کرانے کو کوئی تیا رنہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب سندھ حکومت نے وفاق کی طرف سے فنڈز ملتے ہی ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کا جو سلسلہ شروع کیا ہو اہے وہ عوام کھلے آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اب سندھ کے وزراء کی نظریں حیدرآباد کو ملنے والے فنڈز پر لگی ہوئی ہے۔ دوسری طرف سندھ میں امن و امان کی صورتحال تباہ ہو چکی ہے، ڈکیتیاں اور قبائلی جھگڑے دانستہ طور پر کروا کر عوام کا جینا دوبھر بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کرپشن کی نذر ہو چکے ہیں، جس کے باعث مہنگائی عروج پر ہے۔ سندھ حکومت نے عوام کو سہولتیں دینے کو تیا رنہیں ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے اپنی صدارت بچانے کے لیے سندھ کے وسائل کا سودا کر لیا ہے، جبکہ پانی کی قلت کے باعث سندھ میں زراعت تباہ ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ سمیت پورے ملک کے عوام جعلی حکومت سے بیزار ہو چکے ہیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد