بنگلا دیش: جماعت اسلامی کا انتخابی بے ضابطگیوں پر عدالت اور الیکشن کمیشن جانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260216-01-15
ڈھاکا (صباح نیوز) ڈھاکا میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر میں 11 جماعتی اتحاد کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی، این سی پی، خلافت مجلس، جاگپا، لیبر پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور 11 جماعتی اتحاد کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اے ایچ ایم حمید الرحمٰن آزاد نے کی۔ اجلاس میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے نتائج میں مبینہ دھاندلی، پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے اور دیگر بے ضابطگیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ 11 جماعتی انتخابی اتحاد آئندہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر متحدہ پلیٹ فارم کے طور پر کردار ادا کرے گا اور ملک، قوم اور عوام کے مفاد میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد 13 فروری کی رات عجلت میں گزٹ جاری کیے جانے کے باعث جن نشستوں پر بے ضابطگیاں ہوئیں، وہاں آر پی او کے تحت دوبارہ گنتی کا موقع نہ ملنے سے امیدوار اپنے حق سے محروم ہوئے۔ ان معاملات کے ازالے کے لیے ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مزید برآں 30 سے زائد نشستوں پر مبینہ دھاندلی کے خلاف 15 فروری کو 11 جماعتی اتحاد کے رہنما الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے۔ڈاکٹر حمید الرحمٰن آزاد نے کہا کہ جولائی چارٹر کے نفاذ کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں ‘‘ہاں’’ کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد پارلیمنٹ کے اعلیٰ ایوان کی 100 نشستیں سیاسی جماعتوں کو حاصل شدہ ووٹوں کے تناسب سے دی جائیں گی اور اس معاملے میں کسی جماعت کو نوٹ آف ڈسینٹ (اختلافی نوٹ) کا موقع نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے ‘‘ہاں’’ کو کامیاب بنا کر اختلافی نوٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کے آغاز کے 180 دنوں کے اندر مرحلہ وار جولائی چارٹر پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں انتخابات سے قبل اور بعد 11 جماعتی اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنان، خصوصاً خواتین کے خلاف تشدد کی مذمت کی گئی اور خبردار کیا گیا کہ اگر تشدد کا سلسلہ بند نہ ہوا تو عوام کو ساتھ لے کر میدان میں آنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ساتھ ہی فاشسٹ عناصر سے گٹھ جوڑ سے گریز کرتے ہوئے عوامی توقعات کے مطابق جمہوری سیاسی کلچر کے فروغ کی اپیل کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر حمید الرحمن آزاد نے 11 جماعتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ صحافیوں کو بریفنگ دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعتی اتحاد کے جماعت اسلامی اجلاس میں کیا گیا گیا کہ
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔