تشدد اور فسطائیت ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتی، فضل احد ‘ڈاکٹر نور الحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) جماعت اسلامی ضلع کیماڑی اور ضلع غربی سائٹ کے زیرِ اہتمام شیر شاہ چوک پر سندھ حکومت کے مبینہ تشدد اور فسطائیت کے خلاف عظیم احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ یہ احتجاج گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے سامنے جماعت اسلامی کے پرامن دھرنے پر پولیس کی جانب سے کی جانے والی لاٹھی چارج، شیلنگ اور 50 سے زائد کارکنان کی گرفتاری کے خلاف کیا گیا۔ ملک گیر یومِ احتجاج کے سلسلے میں کراچی میں شیر شاہ سمیت 10 سے زائد مقامات پر دھرنے دیے گئے۔شیر شاہ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر ضلع کیماڑی فضل احد اور امیر ضلع غربی ڈاکٹر نور الحق نے کہا کہ پولیس تشدد سے متعدد کارکنان زخمی ہوئے، مگر ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے جماعت اسلامی کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور کراچی کے حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے، بصورتِ دیگر سخت لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا جس کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ دھرنے کے شرکاء نے سندھ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔