پر امن احتجاج پر پولیس تشدد فسطائیت ہے ، جاوداں فہیم
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ناظمہ حلقہ خواتین جماعتِ اسلامی کراچی جاوداں فہیم نے سندھ اسمبلی کے سامنے کراچی کے عوام کے حقوق اور با اختیار شہری حکومت کے لیے ہونے والے پرامن احتجاج پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک بار پھر اپنی فسطائیت اور جمہوریت دشمن طرزِ عمل کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل، شہر کے نظام کی بہتری اور سانحہ گل پلازہ جیسے دلخراش واقعات کی روک تھام کے لیے کیا جانے والا یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور جمہوری تھا، لیکن حکومت نے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے ذریعے نہ صرف کارکنان کو زخمی کیا بلکہ عوام کے بنیادی جمہوری حق کو بری طرح پامال کیا۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے، مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے طاقت کے غلط استعمال سے اس حق کو کچلنے کی کوشش کی، جو جمہوریت کی نفی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی‘ کراچی پر مسلط ہے کیوں کہ کراچی کے عوام نے اسے ووٹ نہیں دیے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوامی جدوجہد میں ایک نئی تحریک کا آغاز ہے۔ اب کراچی کے عوام اپنے حقوق لے کر رہیں گے ، پر امن احتجاج اور جدو جہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک شہر کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو جاتے، عوام کی جان و مال محفوظ اور شہریوں کو ان کے بنیادی شہری حقوق میسر نہیں آ جاتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی کے عوام
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔