پرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن، گرفتار کارکنان پر دہشت گردی دفعات کا اندراج قابل مذمت قرار
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : کے ایم سی اپوزیشن لیڈر اور جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے پُرامن احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال اور کارکنان کی گرفتاری جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
سٹی کورٹ میں ضلع جنوبی کے اسپیشل مجسٹریٹ کے روبرو گرفتار کارکنان کی پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کے ایم سی اپوزیشن لیڈرنے کہا کہ سندھ حکومت نے نہتے اور پُرامن کارکنان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات لگا کر سیاسی انتقام کی مثال قائم کی ہے، گرفتار افراد دراصل صوبائی حکومت کی مبینہ کرپشن اور کراچی میں جاری سنگین شہری مسائل کے خلاف اپنا آئینی و جمہوری حق استعمال کر رہے تھے لیکن ان کے خلاف سخت دفعات شامل کر کے انہیں مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے پولیس نے شدید شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں کم از کم چار کارکنان زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کارروائی کے دوران دو مساجد پر بھی شیلنگ کی گئی، جس سے ایک مسجد میں آگ بھڑک اٹھی، اور آگ بجھانے کے لیے آنے والے فائر بریگیڈ عملے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک فائر مین زخمی ہوا، عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ زخمی کارکنان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے اور گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر غیر قانونی گرفتاریاں اور طاقت کا استعمال جاری رہا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، جماعت اسلامی ایک منظم اور پُرامن سیاسی جماعت ہے جو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک بھر میں احتجاج کیا گیا جبکہ کراچی میں منعم ظفر خان کے اعلان کے مطابق مرکزی شاہراہوں سمیت دس مقامات پر دھرنے دیے گئے، حکومت کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باوجود کارکنان نے پُرامن انداز میں احتجاج جاری رکھا۔
پیشی کے موقع پر توفیق الدین صدیقی اور محمد فاروق بھی موجود تھے، جنہوں نے کارکنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام مقدمات فوری ختم اور گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے
پڑھیں:
کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
سولچر بازار پولیس نے موٹرسائیکل لفٹنگ میں ملوث خاتون ملزمہ کو گرفتار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سولچر بازارپولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث خاتون ملزمہ سحر بتول زوجہ کاشف خان کو گرفتار کرلیا
۔پولیس کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔گرفتار ملزمہ اپنے شوہر کے ہمراہ موٹرسائیکل لفٹنگ کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہی ہے۔
دونوں میاں بیوی کو موٹر سائیکل لے جاتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ملزمہ کے قبضے سے موٹر سائیکل نمبر KQX-2361 میکر سپر اسٹار 70 برآمد کرلی گئی۔
گرفتارملزمہ اورفرار شوہر کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج، مزید تفتیش جاری ہے۔