ہیومن رائٹس سپورٹ سوسائٹی (ایچ آر ایس ایس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے 13ویں قومی پارلیمنٹ انتخابات اور ریفرنڈم کے دوران وسیع پیمانے پر تشدد، زخمیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کے متعدد واقعات سامنے آئے، حالانکہ ووٹنگ کے دن پولنگ نسبتاً پرامن رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 سے 14 فروری 2026 تک 700 سے زائد انتخابی واقعات میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 2,503 زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار 15 قومی اور 150 سے زائد مقامی روزناموں کی نگرانی اور ضلعی نمائندگان کی معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

انتخابات اور ریفرنڈم عمومی طور پر منظم انداز میں ہوئے، تاہم ووٹنگ سے پہلے اور بعد میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 11 دسمبر 2025 سے 11 فروری 2026 تک ایچ آر ایس ایس نے 254 تشدد کے واقعات ریکارڈ کیے، جن میں 1,650 زخمی اور 5 ہلاک ہوئے۔ ان میں 24 افراد کو گولیاں لگیں، جبکہ 200 سے زائد گھروں، گاڑیوں، کاروباری دفاتر، کیمپین آفسز اور پولنگ اسٹیشنز کو نقصان پہنچایا یا آگ لگا دی گئی۔ انتخاب سے پہلے کے زیادہ تر جھگڑے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی یعنی بی این پی، جمعیت اسلامی اور دیگر سیاسی گروپوں کے حامیوں کے درمیان ہوئے۔

ان میں بی این پی کے اندرونی تنازعات سے 68 واقعات ہوئے، جن میں 595 زخمی اور 3 ہلاکتیں ہوئی۔ بی این پی اور جماعت کے درمیان 100 جھڑپیں ہوئیں، جس میں 915 افراد زخمی اور ایک ہلاک ہوا۔ اس کے علاوہ نیشنل سٹیزن پارٹی، عوامی لیگ اور جتیا پارٹی کے چند چھوٹے جھگڑے بھی ریکارڈ کیے گئے۔ پولنگ سے پہلے 5 ہلاکتوں میں 3 بی این پی کا حامی، ایک جماعت کا حامی اور ایک انقلابی منچ سے منسلک تھا۔

انتخابی دن ایچ آر ایس ایس نے 393 واقعات ریکارڈ کیے جو جرائم یا بدانتظامی سے متعلق تھے، اگرچہ ہلاکتیں رپورٹ نہیں ہوئیں۔ ان میں پولنگ اسٹیشنز پر بدانتظامی، حامیوں کے درمیان جھڑپیں، مبینہ جعلی ووٹنگ، پولنگ ایجنٹس کو نکالنا، بیلٹ باکس چھیننے کی کوششیں اور آگ لگانے کے واقعات شامل تھے۔ اس دوران 50 افراد گرفتار، 13 پولنگ افسران کی تبدیلی، 55 جرمانے یا قید کے اقدامات، 5 صحافی زخمی اور آن لائن 64 اے آئی سے تخلیق شدہ غلط معلومات بھی ریکارڈ کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں فسطائیت سے پاک ریاستی سفر کا آغاز ہو چکا، طارق رحمان کی پریس بریفنگ

نتائج کے اعلان کے بعد تشدد میں مزید اضافہ ہوا، کم از کم 30 اضلاع میں بی این پی، جماعت اور آزاد امیدواروں کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد جھڑپیں ہوئیں، 300 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے اور 350 سے زائد دفاتر، گھر اور کاروبار نقصان یا آگ لگنے کی زد میں آئے۔

ایچ آر ایس ایس نے انتخابی مہم کے دوران خواتین کے خلاف حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 11 دسمبر 2025 سے 14 فروری 2026 تک 32 واقعات میں خواتین ہراساں یا حملے کا نشانہ بنیں، جن میں 45 خواتین مبینہ طور پر ہراساں اور 23 زخمی ہوئیں۔ زیادہ تر متاثرہ خواتین جماعت کی حامی تھیں اور زیادہ تر واقعات میں بی این پی کے کارکنان پر الزامات عائد کیے گئے۔ رپورٹ میں جسمانی حملہ، دھمکیاں اور عوامی بے عزتی کے کیسز بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر ہاتیہ، نوآخلی میں 32 سالہ خاتون سے مبینہ زیادتی اور حملے کی بھی اطلاع دی گئی، جسے ایچ آر ایس ایس نے انتہائی تشویشناک قرار دیا اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے عدالتی اصلاحات اور شفاف انتخابات کو ترجیح دی، تاہم بڑھتا ہوا تشدد، پارٹی کے اندر تنازعات اور امیدواروں کی اہلیت کے قانونی مسائل امن قائم رکھنے میں رکاوٹ بنے۔ ایچ آر ایس ایس نے حکام سے شفاف تحقیقات، مجرموں کو سزا دینے اور ووٹرز، امیدواروں اور صحافیوں کے تحفظات کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انتخابات بنگلہ دیش تشدد ڈھاکا محمد یونس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا محمد یونس ایچ آر ایس ایس نے واقعات میں کے درمیان بنگلہ دیش ریکارڈ کی بی این پی زخمی اور

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی