Jasarat News:
2026-06-02@20:41:37 GMT

آکاش انصاری کی برسی پر تقریب کا انعقاد ، وزراء کا خطاب

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین (جسارت نیوز ) سندھ کے نامور شاعر شہید ڈاکٹر آکاش انصاری کی پہلی برسی اْن کے آبائی شہر بدین میں محکمہ ثقافت اور ڈاکٹر آکاش انصاری ورکنگ کمیٹی کے تعاون سے جم خانہ بدین میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی برسی کی تقریب میں صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈ محمد اسماعیل راہو، صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و آرکائیوز سید ذوالفقار علی شاہ، صوبائی وزیر تعلیم، معدنیات و معدنی ترقی سید سردار علی شاہ، ایم پی اے حاجی تاج محمد ملاح، ایم پی اے بی بی یاسمین شاہ، ڈائریکٹر جنرل محکمہ ثقافت حبیب اللہ میمن، ڈاکٹر آکاش کی صاحبزادی میران آکاش اور دیگر معززین نے شرکت کی صوبائی وزیر تعلیم، معدنیات و معدنی ترقی سید سردار علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہید ڈاکٹر آکاش انصاری خواب دیکھنے کے قائل تھے کیونکہ دنیا انہی لوگوں نے بدلی ہے جو خواب دیکھتے ہیں۔ اْن کے خواب انسان دوستی، اپنی دھرتی کی خوشحالی، طبقاتی نظام کے خاتمے اور جاگیردارانہ و وڈیرا شاہی نظام کے خاتمے سے جڑے ہوئے تھے۔ آکاش انصاری نے سندھ میں شجروں اور نسبی برتری کے خاتمے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ہمیشہ باغیوں اور انکار کرنے والوں نے بدلی ہے۔ آکاش نے بھرپور زندگی گزاری، بیماری کو شکست دے کر دوبارہ صحت مند زندگی شروع کی اور زندگی کو نئے عزم کے ساتھ صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و آرکائیوز سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ آج آکاش کی محبت میں ملک بھر سے اْن کے چاہنے والے جمع ہوئے ہیں، جو اْن کی عظمت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مارشل لا کے دور میں بھی انقلابی شاعری کی۔ انہوں نے کہا کہ بدین میں دیگر بڑے شاعر بھی پیدا ہوئے جن میں حاجی احمد ملاح اور حافظ نظامانی شامل ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ محکمہ ثقافت ہر سال ڈاکٹر آکاش انصاری کی برسی منائے گا اور اْن کی باقی ماندہ کتب شائع کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت جلد حیدرآباد میں بھی شہید ڈاکٹر آکاش انصاری کی یاد میں تقریب منعقد کی جائے گی۔صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈ محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ آج ڈاکٹر آکاش کی عدم موجودگی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ وہ ایک عظیم شاعر تھے اور کچھ اموات ایسی ہوتی ہیں جنہیں زندگی بھر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ طارق شاہ، سورمی سَتھ کی رہنما ماروی عابدہ سموں، پروفیسر عبداللہ ملاح، محکمہ تعلیم کے فوکل پرسن محمد خان سموں اور دیگر مقررین نے کہا کہ آکاش کے انتقال سے سندھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے بدین سے تعلق رکھنے والے سندھ کے نامور شاعر شہید آکاش انصاری کو سندھی ادب کے ایک اہم اور روشن نام کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت، امن، انسانیت اور سماجی شعور کا پیغام عام کیا۔ اْن کی شاعری سندھ کی ثقافت، دھرتی کی خوشبو اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے آکاش انصاری، بدین کی دھرتی پر پیدا ہوئے اور اپنی فنی صلاحیتوں کے باعث سندھی ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اْن کی شاعری میں وطن سے محبت، سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز اور انسان دوستی کا جذبہ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے ادبی حلقوں کے مطابق اْن کا شعری انداز سادہ، دلنشین اور اثر انگیز ہے، جس کے باعث قارئین اور سامعین آسانی سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے نوجوان نسل میں شعور، محبت اور بھائی چارے کی اقدار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا سماجی اور ادبی شخصیات کا کہنا ہے کہ آکاش انصاری کی شاعری امید، سچائی اور مثبت سوچ کا درس دیتی ہے، جو معاشرے میں بھلائی اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بدین کے عوام کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ اس دھرتی نے ایسا شاعر پیدا کیا جس نے سندھی ادب کو مالا مال کیا اور اپنے فن کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر ا کاش انصاری ا کاش انصاری کی نے کہا کہ انہوں نے علی شاہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل