پر امن اور نہتے کارکنوں پر دہشت گردی کی دفعات شرمناک اور قابل مذمت ہیں‘سیف الدین
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260216-08-24
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے سندھ اسمبلی پر جماعت اسلامی کے پر امن احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کے وحشیانہ تشدد کے بعد گرفتار کیے گئے کارکنوں کو اتوار کے روز سٹی کورٹ میں ضلع جنوبی کے اسپیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کی ۔ انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے نہتے اور پر امن کارکنان پر دہشت گردی کی دفعات لگانے کی شدید مذمت کی کہا کہ ہمارے پر امن اور نہتے کارکنوں کو گزشتہ روز غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا یہ کارکنان حکومت سندھ کی کرپشن اور کراچی میں بد ترین مسائل پر امن طور پر اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کر رہے تھے انتہائی افسوسناک اور شرمناک امر یہ ہے کہ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں، حالانکہ دہشت گردی پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت خود کر رہی ہے۔ حکومت نے کھلی سفاکیت کی، طاقت کا غلط اور بلا جواز استعمال کرتے ہوئے پرامن کارکنان پر بیہمانہ تشدد کیا گیا،بدترین شیلنگ اور لاٹھی چارج سے 4کارکنان شدید زخمی ہیں پولیس نے مساجد کو بھی نہیں چھوڑا اور دو مساجد پر شیلنگ کی جس کے نتیجے میں ایک مسجد میں آگ لگ گئی جب آگ بجھانے کے لئے فائر بریگیڈ آگ بجھانے کے لئے پہنچی تو ان پر بھی شیلنگ کی اور ایک فائر مین منہ پر شیل لگنے سے شدید زخمی ہوا، ہم نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ زخمی کارکنان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لینے کے بجائے خود اپنے لیے مشکلات پیدا کرنا چاہتی ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے،جھوٹے مقدمات اور دہشت گردی کی دفعات ختم کی جائیں،آئینی و قانونی حقِ احتجاج کا احترام کیا جائے۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہاکہ پر امن احتجاج پر پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے احکامات پر بدترین پولیس تشدد و شیلنگ کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پرآج اتوار کو ملک بھر میں احتجاج کیا گیا اور امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کے اعلان کے مطابق شہر کی مرکزی شاہراؤں سمیت 10مقامات پر احتجاجی دھرنے دیئے گئے جنہیں روکنے کے لیے سندھ حکومت نے جگہ جگہ پولیس کی نفری لگائی لیکن ہم حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی ایک پرامن، منظم اور ذمہ دار جماعت ہے، اگر غیر قانونی گرفتاریاں اور حکومتی طاقت کا استعمال جاری رہا تو یہ معاملہ مزید آگے بڑھے گا۔ گرفتار شدگان کی پیشی کے موقع پر سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی اورجماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کی دفعات جماعت اسلامی
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔