وزیراعلیٰ سندھ نے خالد بن ولید فلائی اوور کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
تصویر، بشکریہ سوشل میڈیا
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے علاقے بھینس کالونی ریلوے پھاٹک پر خالد بن ولید فلائی اوور کا افتتاح کردیا۔
فلائی اوور کی تعمیر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے ورلڈ بینک کے کلک منصوبے کے تحت 5 ماہ کی مدت میں مکمل کی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا۔
افتتاحی تقریب میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، پارٹی عہدیداران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کو منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ فلائی اوور مہران ہائی وے سے شروع ہو کر نیشنل ہائی وے این فائیو پر ختم ہوتا ہے، فلائی اوور کی لمبائی 682 میٹر جبکہ چوڑائی 20 اعشاریہ 65 میٹر ہے، منصوبہ 4 لائنز پر مشتمل ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ فلائی اوور اور سڑک کی تعمیر پر 1 ارب 86 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی جبکہ منصوبے کا آغاز 21 ستمبر 2025 کو کیا گیا اور صرف 5 ماہ میں مکمل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فلائی اوور
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔